وفاقی حکومت نے برآمدی شعبے کو فوری ریلیف فراہم کرتے ہوئے تمام برآمدی اشیاء پر عائد ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ایف بی آر نے اس فیصلے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت دی ہے کہ ملک کے تمام بینک اس سرچارج کی وصولی فوری طور پر روک دیں۔
ایف بی آر کے مطابق، یہ سرچارج فنانس ایکٹ 1991ء کے تحت نافذ کیا گیا تھا، تاہم برآمدکنندگان کی جانب سے طویل عرصے سے شکایات سامنے آ رہی تھیں کہ یہ سرچارج لاگت بڑھا کر پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں مسابقت کم کرتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے برآمدی سیکٹر کی سفارشات پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے اس سرچارج کے خاتمے کے احکامات جاری کیے تھے۔
اسٹیٹ بینک نے بھی ایف بی آر کے فیصلے کے مطابق اپنے سابقہ سرکلر واپس لیتے ہوئے تمام کمرشل بینکوں اور فارن ایکسچینج ڈیلرز کو سرچارج کی وصولی بند کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
مشیر خزانہ خرم شہزاد نے بتایا کہ نجی شعبے کی مشاورت سے بنائے گئے ورکنگ گروپس کے نتائج تیزی سے سامنے آ رہے ہیں اور وزیراعظم کے فیصلے پر فوری عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرچارج کے خاتمے سے برآمدی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بڑھنے کی بھی توقع ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق، اس حکومتی فیصلے سے برآمدی صنعت کو خاطرخواہ فائدہ ہوگا اور آئندہ دنوں میں برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔

