پاکستان نے متحدہ عرب امارات کا تمام قرض اتار دیا؛ 3.45 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی مکمل واپسی

اسلام آباد: پاکستان نے اپنی بیرونی مالیاتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے متحدہ عرب امارات (UAE) سے حاصل کردہ تمام مالیاتی ڈپازٹس کی واپسی مکمل کر لی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، پاکستان نے گزشتہ روز متحدہ عرب امارات کے ادارے ‘ابو ظہبی فنڈ برائے ترقی’ کو ایک ارب ڈالر کی آخری قسط واپس کر دی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی 2.45 ارب ڈالر کی رقم واپس کی گئی تھی، جس کے بعد یو اے ای کے مجموعی طور پر 3.45 ارب ڈالر کے تمام واجبات ادا کر دیے گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام ادائیگیاں طے شدہ طریقہ کار کے تحت 23 اپریل کو مکمل کی گئیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق، یو اے ای کو یہ خطیر رقم 6 فیصد سود کے ساتھ واپس کی گئی ہے، جس کا مقصد پاکستان کی بیرونی مالی ساکھ کو بہتر بنانا اور قرضوں کے بوجھ میں کمی لانا ہے۔

اگرچہ اس بڑی ادائیگی سے بیرونی مالیاتی خلا میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا، تاہم متبادل ذرائع سے بندوبست ہونے کے بعد حکومت نے ان ڈپازٹس کو رول اوور کرنے کے بجائے واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایک طرف جہاں یو اے ای کو ادائیگیاں مکمل ہوئیں، وہیں دوسری طرف پاکستان کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کر دی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب سے موصول ہونے والی یہ رقم ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے اور معاشی استحکام کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یو اے ای کے واجبات کی بروقت ادائیگی اور سعودی عرب سے نئے ڈپازٹس کی موصولی سے عالمی مالیاتی اداروں کا پاکستان پر اعتماد مزید بڑھے گا۔