"عوام پر پیٹرول بم گرا دیا گیا”؛ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 26 روپے سے زائد کا ہوشربا اضافہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مہنگائی کے ستائے عوام پر ایک اور ‘پیٹرول بم’ گرا دیا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 366.58 روپے سے بڑھ کر 393 روپے 35 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔

نئی قیمتوں کا اطلاق 25 اپریل کی رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے ہو گیا ہے۔

تاہم، غریب طبقے کے لیے مٹی کے تیل کی قیمت میں 63 روپے 60 پیسے کی غیر معمولی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 365 روپے 21 پیسے ہو گئی ہے۔

وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی شراکت داروں کے ساتھ معاہدوں کی پاسداری اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ کی وجہ سے حکومت کو اس اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل کرنا پڑا ہے۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت نے جس قدر ممکن ہو سکا عالمی اضافے کو خود برداشت کیا اور عوام کو تاریخی ریلیف پیکیج بھی دیا، لیکن موجودہ صورتحال میں قیمتوں میں رد و بدل ناگزیر تھا۔

وزیرِ پیٹرولیم نے مزید کہا کہ کویت کی جانب سے تیل سپلائی کے معاہدوں پر عملدرآمد سے معذرت اور علاقائی غیر یقینی صورتحال نے بحران کو مزید بڑھایا ہے۔

انہوں نے دعا کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوں اور علاقائی امن بحال ہو، تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نیچے آئیں اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

معاشی ماہرین کے مطابق، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس حالیہ اضافے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جس سے مہنگائی کا بوجھ بڑھ سکتا ہے۔