جعفر ایکسپریس حملہ: آپریشن مکمل، 33 دہشت گرد ہلاک، 21 مسافر اور 4 جوان شہید

جعفر ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن مکمل کرلیا۔ اس کارروائی میں 33 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ پاک فوج کے چار جوانوں سمیت 21 معصوم مسافر شہید ہوگئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے بولان کے علاقے اوسی پور میں ریلوے ٹریک کو دھماکے سے تباہ کر کے جعفر ایکسپریس کو روکا تھا، جس میں 440 مسافر سوار تھے۔ دہشت گردوں نے مسافروں کو یرغمال بنایا اور انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ فورسز نے فوری طور پر آپریشن کا آغاز کیا اور آرمی، ایئرفورس، فرنٹیئر کور اور ایس ایس جی کے جوانوں نے بہادری سے حصہ لیا۔ مرحلہ وار کارروائی کے دوران تمام یرغمالیوں کو بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا، تاہم دہشت گردوں کی بربریت کے باعث قیمتی جانوں کا نقصان بھی ہوا۔

آپریشن کے دوران انکشاف ہوا کہ دہشت گرد افغانستان میں اپنے ماسٹر مائنڈ اور بھارتی سہولت کاروں سے رابطے میں تھے۔ بھارتی میڈیا نے حملے کے فوراً بعد جعلی خبروں اور پرانی ویڈیوز کے ذریعے پروپیگنڈا مہم شروع کردی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس حملے کے پیچھے بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کے دشمنوں کو کسی بھی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری، اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ سمیت دیگر قومی قیادت نے حملے کی شدید مذمت کی اور دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ ملک دشمن عناصر پاکستان کی سلامتی کے درپے ہیں، لیکن سیکیورٹی فورسز اور عوام ان کے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔