نئے صوبوں کی تشکیل پر 18ویں ترمیم جیسی مشاورت کی جائے: بیرسٹر گوہر

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر 18ویں ترمیم کے طرز پر تمام سیاسی فریقین اور عوام کی مرضی پر مبنی مشاورت کا مطالبہ کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ جلد بازی میں کی گئی متنازع قانون سازی وفاق کی یکجہتی کو نقصان پہنچائے گی۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عوامی نمائندوں کی منشا کے بغیر سندھ، پنجاب یا بلوچستان کی تقسیم سے پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے تجویز دی کہ موجودہ پارلیمان کے بجائے نئی آنے والی پارلیمنٹ کو اس حساس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔

اس موقع پر انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دہشت گردی سے متعلق حالیہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف افواج اور عوام قربانیاں دے رہے ہیں، اس مسئلے پر پوائنٹ اسکورنگ بند ہونی چاہیے۔

دوسری جانب، سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک پہلے ہی معاشی و سیاسی بحرانوں کی زد میں ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پنجاب یا بلوچستان اسمبلیوں نے نئے صوبوں کا بل منظور کیا ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ عوام اور متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی منظوری کے بغیر ایسے فیصلے وفاق پر اعتماد کو مزید مجروح کریں گے۔