بھارتی عدلیہ پر عدم اعتماد؛ یاسین ملک کا عدالت میں مزید دفاع سے انکار، سزائے موت بھی قبول کرنے کا اعلان

نئی دہلی: بھارتی قید میں موجود نامور کشمیری حریت رہنما اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یاسین ملک نے بھارتی عدلیہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خلاف زیرِ سماعت تمام مقدمات کی مزید پیروی اور دفاع کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

سری نگر کی ایڈیشنل سیشن کورٹ میں اپنے وکیل کے توسط سے جمع کرائے گئے 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی حلف نامے میں یاسین ملک نے کہا ہے کہ مودی حکومت انہیں 36 سال پرانے جھوٹے مقدمات میں ملوث کر کے سزائے موت دینے کی سازش کر چکی ہے، لہٰذا انہیں بھارتی عدالتوں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر عدالت انہیں سزائے موت بھی سنائے تو وہ تحریکِ کشمیر کے لیے قبول ہے، تاہم اس کا مطلب جرم کا اعتراف ہرگز نہیں ہوگا۔ حلف نامے میں انہوں نے 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کے تمام الزامات کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا۔

یاسین ملک نے تحریری بیان میں دہائیوں پر محیط طویل قید، تنہائی اور اہل خانہ سے برسوں کی جدائی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کو طویل قید اور غیر یقینی مستقبل کے بوجھ سے آزاد کرنے کے لیے اپنی رفاقت اور نکاح سے آزاد کرنے کی خواہش ظاہر کی، جبکہ اپنی 8 سالہ بیٹی کو دادی کا خیال رکھنے اور ان کی تنہائی دور کرنے کی تلقین کی ہے۔

دوسری جانب سیاسی ماہرین نے یاسین ملک کے اس قدم کو بھارتی ریاستی جبر اور عدالتی ناانصافی کے خلاف تاریخی اور ثابت قدم موقف قرار دیا ہے۔