تہران: ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ’سانپ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے امریکی انتظامیہ اور عوام کو دھوکا دے کر ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) کے مطابق، عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر نیتن یاہو کے عبرانی زبان میں کیے گئے خطاب کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے کھلے الفاظ میں مان لیا ہے کہ انہوں نے کس طرح امریکا کو ایران کے خلاف اقدام پر آمادہ کیا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے امریکی ٹی وی نیٹ ورکس پر ایک ہزار گھنٹے سے زائد ائیر ٹائم حاصل کر کے امریکی رائے عامہ اور پالیسی سازی کو گمراہ کیا اور اب وہ کھلم کھلا اس بات پر ہنس رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کا یہ دوغلا پن ہے کہ وہ انگریزی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کی تعریفیں کرتے ہیں، جبکہ عبرانی میں اپنی چالاکیوں کا کریڈٹ لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے امریکا کو بے وقوف بنا کر اس جنگ کا حصہ بنایا گیا۔ دوسری جانب تہران کے ان شدید الزامات پر اسرائیلی اور امریکی حکام کی طرف سے فی الحال کوئی باقاعدہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

