اسلام آباد: ملک میں ایک ماہ کے وقفے کے بعد مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ (دوہرے ہندسے) میں داخل ہو گئی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کے تحت مہنگائی کی سالانہ شرح 11.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو جولائی میں 9.2 فیصد تھی۔
مہنگائی میں اس اچانک اضافے کی بنیادی وجہ گندم، آٹے، پیٹرولیم مصنوعات اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مسلسل اضافہ ہے۔ عالمی مارکیٹ کے اثرات اور ایندھن پر ٹیکسوں (پیٹرول پر فی لیٹر 116 روپے اور ڈیزل پر 101 روپے کے ٹیکسز) کے باعث موٹر فیول کی قیمتیں گزشتہ سال اگست کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد تک بڑھ چکی ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 20.2 فیصد اضافہ ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق اگست میں ٹماٹر کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 128 فیصد، پیاز 125 فیصد، گندم 87 فیصد اور آٹا 73 فیصد مہنگا ہوا، جبکہ آلو کی قیمت میں 23 فیصد اور چینی میں 17 فیصد کمی دیکھی گئی۔
حکومت نے رواں مالی سال کے لیے مہنگائی کا سالانہ ہدف 8.2 فیصد مقرر کر رکھا ہے، تاہم ابتدائی دو ماہ میں اوسط مہنگائی 10.2 فیصد تک پہنچنے کے بعد معاشی ماہرین کی جانب سے شرحِ سود میں مزید اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

