امریکی آرمی سیکرٹری ڈین ڈرسکول کا اچانک استعفیٰ؛ پینٹاگون میں اعلیٰ قیادت کی تبدیلیوں پر سوالات

واشنگٹن: امریکی آرمی کے سویلین سربراہ اور سیکرٹری ڈین ڈرسکول نے اپنے عہدے سے اچانک استعفیٰ دے کر اپنا استعفیٰ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ارسال کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے استعفے کی تصدیق کی ہے، تاہم فوری طور پر اس کی کوئی رسمی وجہ بیان نہیں کی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فروری 2025 سے خدمات انجام دینے والے ڈین ڈرسکول اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے فوج کی جدید کاری، پالیسیوں اور سینیئر افسران کی تبدیلیوں کے حوالے سے شدید اختلافات چلے آ رہے تھے۔

یہ پیش رفت پینٹاگون میں اپریل کے دوران جنرل رینڈی جارج کو ہٹائے جانے اور جون میں جنرل کرسٹوفر ڈونا ہیو کے استعفے کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے محکمہ دفاع میں انتظامی استحکام پر سوالات اٹھے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ڈرسکول کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور روس یوکرین مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ عراقی جنگ میں حصہ لینے والے ڈرسکول نائب صدر جے ڈی وینس کے بھی قریبی دوست سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرق وسطیٰ اور ایران سے متعلق تناؤ کے باعث امریکی فوج اضافی دباؤ کا شکار ہے۔