سندھ طاس معاہدہ: عالمی ثالثی عدالت کا بڑا فیصلہ، بھارت کو پن بجلی منصوبوں کا کام روکنے کا حکم

دی ہیگ: نیدر لینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم اقوام متحدہ کی مستقل ثالثی عدالت (PCA) نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں ‘رتلے ہائیڈرو الیکٹرک’ سمیت دیگر پن بجلی منصوبوں پر کام محدود کرنے اور معاہدے کی پاسداری کا حکم دے دیا ہے۔

ثالثی عدالت نے متفقہ فیصلے میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرنے کے اقدام کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ بھارت کے پاس معاہدہ معطل کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں اور 1960 کا سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے۔

عدالت نے عبوری اقدامات کے تحت بھارت کو رتلے ڈیم کی دیوار اور واٹر انٹیک کی تعمیر روکنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ عالمی بینک کے غیر جانبدار ماہر جولائی 2027 تک ان منصوبوں کی تکنیکی مطابقت کا حتمی فیصلہ کریں گے۔

حکومت پاکستان نے عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے آئینی و قانونی فتح قرار دیا ہے، تاہم دوسری جانب بھارتی وزارتِ خارجہ نے دی ہیگ کی ثالثی عدالت کے وجود اور دائرہ اختیار کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔