عمران خان کی جیل سہولیات اور صحت پر منفی پروپیگنڈا مسترد: حکومت کا سی این این کی رپورٹ پر ردعمل

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحت اور حالاتِ حراست سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی این این (CNN) اور بیرونِ ملک مقیم رہنماؤں کے دعوؤں کو گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات کے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق عمران خان کو جیل میں تمام قانونی حقوق حاصل ہیں؛ قید کے دوران ان کے 30 سے زائد طبی معائنے اور اہل خانہ و وکلا کے ساتھ تقریباً 198 ملاقاتوں کے سیشنز ہو چکے ہیں جن میں 900 سے زائد افراد نے ان سے ملاقات کی۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو 7 سیلز پر مشتمل کمپاؤنڈ، گھر کا پکا ہوا کھانا، ورزش کا سامان، کتب، ٹی وی، اور ماہر ڈاکٹرز (بشمول پمز اور شوکت خانم) کے ذریعے بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ نیازی نے بھی ان کی صحت کو مکمل طور پر تسلی بخش قرار دیا ہے۔

حکومت نے سی این این کی اینکر بیکی اینڈرسن (Becky Anderson) کے شو میں کیے گئے متنازع اور سیاسی نوعیت کے دعوؤں کا جواب دیتے ہوئے میڈیا اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ تصدیق شدہ جیل و طبی ریکارڈ کو سامنے رکھ کر غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کریں۔ اس کے علاوہ حکومت نے واضح کیا کہ عمران خان کے بیٹوں کے پاس درست NICOP موجود ہے، لہٰذا ان کے پاکستان آنے میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے۔