مارخور کی انٹیلی جنس پر NCCIA کا ایکشن: کراچی میں امریکہ سے فراڈ کرنے والا کال سینٹر بے نقاب، سیاسی رہنما گرفتار

مارخور کو کراچی میں کام کرنے والے ایک مشکوک کال سینٹر سے متعلق انٹیلی جنس معلومات موصول ہوئیں۔ ابتدائی معلومات کی جانچ اور نیٹ ورک سے متعلق ضروری تفصیلات اکٹھی کرنے کے بعد یہ انٹیلی جنس اِن پٹ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ساتھ شیئر کیا گیا، جس پر NCCIA نے 14 جولائی کو گلستانِ جوہر میں کارروائی کرتے ہوئے حیدر عمرانی اور ایان نجیب کو گرفتار کرلیا۔

کارروائی کے وقت معاملہ بظاہر ایک غیر قانونی کال سینٹر تک محدود تھا، تاہم گرفتار افراد کے موبائل فونز، کمپیوٹرز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کی جانچ شروع ہوئی تو تفتیش کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا۔

پہلے یہ لوگ کراچی اور پاکستان کے دیگر شہروں کے لوگوں سے اسکیم کرتے رہے اور بعد ازاں ان کا دائرہ کار ملک سے باہر تک پھیل گیا ۔

این سی سی آئی اے کے مطابق سامنے آنے والے ڈیجیٹل شواہد سے پتا چلا کہ نیٹ ورک امریکی شہریوں کی شناختی اور طبی معلومات استعمال کرکے میڈیکل انشورنس فراڈ کررہا تھا۔ امریکی شہریوں کے credentials حاصل کیے جاتے، ان کی بنیاد پر medical insurance claims تیار کیے جاتے اور کلیمز سے حاصل ہونے والی رقم امریکا میں قائم مختلف LLCs اور merchant accounts کے ذریعے وصول کی جاتی۔

اس کے بعد رقم مختلف چینلز سے منتقل ہوتی ہوئی حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے پاکستان پہنچائی جاتی تھی۔

تحقیقات کے دوران Medicare اور Medicaid سے متعلق دستاویزات، امریکی شہریوں کا confidential medical data اور مختلف Excel sheets بھی سامنے آنے کا ذکر عدالتی ریکارڈ میں موجود ہے۔

مارخور کو ملنے والی ابتدائی انٹیلی جنس ایک کال سینٹر سے متعلق تھی، لیکن NCCIA کی کارروائی اور بعد کی تحقیقات نے ایک ایسے بین الاقوامی نیٹ ورک کی نشاندہی کردی جس کے روابط کراچی سے امریکا تک پھیلے ہوئے تھے۔

اس کیس کا دوسرا اہم پہلو مرکزی گرفتار ملزم حیدر عمرانی کا سیاسی پس منظر ہے۔ وہ سندھ کی ایک سیاسی جماعت (سندھ کی مقتدرہ سیاسی جماعت) کا باقاعدہ عہدیدار رہا، اسی جماعت کے ٹکٹ پر 2024 میں PS-100 سے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور پندرہ ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے۔

اسے ایک صوبائی سیاسی رہنما کی ہدایت پر محرم الحرام کے انتظامات کے لیے فوکل پرسن بھی مقرر کیا گیا تھا، جہاں وہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، واٹر کارپوریشن، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ رابطے میں رہا۔

یعنی مارخور کی ابتدائی انٹیلی جنس پر شروع ہونے والی کارروائی میں گرفتار ہونے والا شخص کوئی غیر معروف کال سینٹر آپریٹر نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی عہدیدار نکلا جو صوبائی اسمبلی کا امیدوار رہ چکا تھا اور حکومتی سطح پر فوکل پرسن کی ذمہ داری بھی انجام دیتا رہا تھا۔

بعد کی تحقیقات میں مزید افراد، merchant accounts، payment channels اور بیرونِ ملک سہولت کاروں کے نام بھی سامنے آئے۔ عدالت نے دونوں مرکزی گرفتار ملزمان کی ضمانت مسترد کردی جبکہ بین الاقوامی منی ٹریل اور باقی نیٹ ورک کی تحقیقات جاری ہیں۔