وزیر خزانہ کی امریکا سے 10 ارب ڈالرز کی مالی سہولت کی درخواست کی تصدیق

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالرز کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسلیٹی (Exchange Stabilization Facility) مانگی ہے اور اس درخواست پر ستمبر 2026ء تک پیش رفت کا امکان ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ یہ درخواست فی الوقت امریکی محکمۂ خزانہ کے پاس موجود ہے۔ اس مالیاتی فیسلیٹی کا مقصد روایت کے مطابق صرف قرض لینا نہیں بلکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام دینا اور عالمی کیپٹل مارکیٹ کو مثبت اشارہ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ قرضوں کی مدت بڑھا کر 10 سال تک لے جانے کے حوالے سے بھی مختلف آپشنز پر کام جاری ہے۔

محمد اورنگزیب کے مطابق اس ضمن میں امریکی ایگزیم بینک (EXIM Bank)، ڈی ایف سی (DFC) اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے بھی بات چیت کا عمل جاری ہے۔ حکومت کا ہدف روایتی دوطرفہ شارٹ ٹرم قرضوں پر انحصار کم کر کے مارکیٹ پر مبنی طویل المدتی مالیاتی معاہدوں کی طرف پیش قدمی کرنا ہے تاکہ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری لائی جا سکے۔