اسلام آباد: پیٹرولیم ڈیلرز کی ملک گیر ہڑتال کی دھمکی اور دباؤ کے بعد وفاقی حکومت نے ان کا دیرینہ مطالبہ تسلیم کر لیا ہے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ڈیلرز کے منافع (مارجن) میں 1 روپیہ 34 پیسے فی لیٹر اضافے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت فنانس ڈویژن میں منعقدہ ای سی سی کے اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ای سی سی کے فیصلے کے بعد پیٹرول (ایم ایس) اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر ڈیلرز کا فی لیٹر مارجن 8 روپے 64 پیسے سے بڑھ کر 9 روپے 98 پیسے ہو گیا ہے۔
آل پاکستان پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن اور پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 15 اگست 2026 سے ملک بھر میں ممکنہ غیر معینہ مدت کی ہڑتال کو حکومت کی جانب سے یقین دہانیوں کے بعد فی الحال ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے ذرائع کے مطابق:
- قیمتوں کا ردوبدل: روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم قیمتوں کے ردوبدل کے نظام کو ختم کر کے اسے دوبارہ 7 یا 15 روز پر منتقل کرنے کے لیے وزیراعظم کو نئی سمری ارسال کر دی گئی ہے۔
- 8 فیصد مارجن کا مطالبہ: ڈیلرز کے 8 فیصد مارجن کے مرکزی مطالبے پر جائزہ لینے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو 30 دنوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین نعمان بٹ اور چیئرمین ملک خدا بخش نے ڈیلرز مارجن میں اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کا شکریہ ادا کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ باقی مطالبات کی منظوری تک احتجاجی عمل جاری رہے گا۔

