27 ستمبر سے پہلے پاکستان کی سیاست میں کیا ہونے والا ہے؟ مکہ ڈیفنس پیکٹ، پی پی پی ن لیگ کشیدگی اور سہیل آفریدی کے دعووں پر بڑا تجزیہ

اسلام آباد: اے کیو ایس لائیو میں میزبان عبدالقیوم صدیقی نے پاکستان کی داخلی سیاست، سہیل آفریدی کے حالیہ بیان، 27 ستمبر کی سیاسی سرگرمیوں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان بڑھتی سیاسی گرما گرمی اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے علاقائی اثرات پر تفصیلی گفتگو کی۔

پروگرام میں دفاعی و سیاسی تجزیہ کار احمد منصور اور طیب بلوچ نے اہم قومی اور علاقائی معاملات پر اپنی آرا پیش کیں۔

مکہ ڈیفنس پیکٹ؛ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی نئی دفاعی صف بندی

مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کاروں نے اسے تینوں ممالک کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیا۔ احمد منصور کے مطابق پاکستان ایٹمی قوت، سعودی عرب معاشی طاقت جبکہ ترکیہ نیٹو کا اہم رکن اور جدید دفاعی صنعت رکھنے والا ملک ہے، اس لیے تینوں ممالک کی صلاحیتوں کا امتزاج خطے میں نئی دفاعی حقیقت پیدا کر سکتا ہے۔

تجزیے میں کہا گیا کہ معاہدے کے نتیجے میں دفاعی ٹیکنالوجی، ڈرونز اور مشترکہ دفاعی منصوبوں میں تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ ترکیہ کی دفاعی صنعت اور پاکستان کے دفاعی تجربے کو سعودی عرب کی مالی استعداد کے ساتھ جوڑنے کی صورت میں تینوں ممالک کی دفاعی خود انحصاری مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔

احمد منصور نے نشاندہی کی کہ بھارت میں بھی اس معاہدے کو پاکستان کے لیے اہم اسٹریٹجک فائدے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، بالخصوص اس تناظر میں کہ کسی ایک فریق پر حملہ تینوں ممالک کے ردعمل کو متحرک کر سکتا ہے۔

ایران کا مثبت ردعمل، خطے میں نئی مساوات؟

پروگرام میں ایران کے مکہ معاہدے پر ردعمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تجزیے کے مطابق ایران کی جانب سے معاہدے کی مخالفت کے بجائے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے اور ایرانی قیادت مسلم ممالک کے باہمی اتحاد کی خواہش کا اظہار کرتی رہی ہے۔

تجزیہ کاروں نے اس پہلو کو بھی اہم قرار دیا کہ پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر کردار ادا کیا ہے، اس لیے تہران کے لیے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اس تعاون کو براہِ راست مخالفت کی نظر سے دیکھنا آسان نہیں ہوگا۔

پراکسی وارز اور دہشت گردی؛ پاکستان کے تجربات کا فائدہ؟

مکہ معاہدے کے ممکنہ سکیورٹی پہلوؤں پر گفتگو میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کو درپیش مختلف سکیورٹی چیلنجز کا ذکر کیا گیا۔

ترکیہ کو کرد مسلح تحریک، سعودی عرب کو یمن کے حوثی مسئلے جبکہ پاکستان کو دہشت گردی اور سرحد پار عسکریت پسندی کا سامنا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں بڑے پیمانے پر عملی تجربہ حاصل کیا ہے۔ ترکیہ کے کرد مسلح گروہوں کے خلاف تجربات اور پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی کے تجربات کے باہمی تبادلے سے مستقبل میں مشترکہ سکیورٹی تعاون کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

افغانستان میں ڈرونز کی موجودگی؛ پاکستان کے لیے نیا خطرہ؟

پروگرام میں افغانستان کی بدلتی سکیورٹی صورتحال کو بھی پاکستان کے لیے ایک ابھرتا ہوا چیلنج قرار دیا گیا۔

گفتگو کے دوران دعویٰ کیا گیا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے ڈرون ٹیکنالوجی حاصل کرنے اور اسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ افغانستان میں ڈرون ٹیکنالوجی، بیرونی معاونت اور مختلف عسکری نیٹ ورکس کی موجودگی پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے نئے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

اس تناظر میں پاکستان مخالف عسکری گروہوں اور افغانستان سے سرگرمیوں کو اسلام آباد کے لیے خاص تشویش کا معاملہ قرار دیا گیا۔

سہیل آفریدی کی “فائنل کال”؛ 27 ستمبر کیوں اہم؟

پروگرام کا ایک اہم حصہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے حالیہ بیانات اور 27 ستمبر کی تاریخ سے متعلق سیاسی بحث پر مشتمل تھا۔

تجزیہ کاروں نے کہا کہ سہیل آفریدی کی جانب سے سخت بیانات اور احتجاجی سیاست کے دعووں کے باوجود خود تحریک انصاف کے اندر ان کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

گفتگو میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ پی ٹی آئی کی بانی خاندان سے وابستہ قیادت کی جانب سے سہیل آفریدی کی “فائنل کال” سے فاصلہ اختیار کرنے کے بعد ان کے سیاسی کردار پر مزید سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

تاہم تجزیے میں یہ بھی کہا گیا کہ تمام سیاسی ذمہ داری صرف سہیل آفریدی پر ڈالنا مناسب نہیں، کیونکہ پی ٹی آئی کی مجموعی سیاسی حکمت عملی اور احتجاجی سیاست بھی زیر بحث ہے۔

پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں “ستمبر” کی سیاست؟

پروگرام میں پاکستان کی وفاقی سیاست کو بھی خاص اہمیت حاصل رہی۔

احمد منصور نے کہا کہ ستمبر میں وفاقی سطح پر کچھ سیاسی تبدیلیاں یا نئی صف بندی سامنے آنے کا امکان محسوس ہو رہا ہے، خصوصاً پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں۔

گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری کے “اسلام آباد اور لاہور کے درمیان لڑائی” سے متعلق بیان کو بھی اہم قرار دیا گیا اور سوال اٹھایا گیا کہ کیا یہ محض سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے یا اس کے پیچھے کوئی بڑی سیاسی صف بندی موجود ہے؟

تاہم تجزیہ کاروں نے واضح کیا کہ حکومت گرانے کے لیے آئینی راستہ واضح ہے اور موجودہ سیاسی بیانات کو فوری طور پر حکومت کے خاتمے سے جوڑنا قبل از وقت ہوگا۔

نئے صوبوں کا معاملہ؛ پیپلز پارٹی کے لیے نئی مشکل؟

نئے صوبوں کے قیام کی بحث کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ممکنہ تنازعے کا ایک اہم سبب قرار دیا گیا۔

تجزیے میں کہا گیا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت خصوصاً سندھ کے سیاسی حلقوں کی جانب سے نئے صوبوں کے معاملے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ مسلم لیگ ن کے اندر بھی اس مسئلے پر مختلف سیاسی حساسیت موجود ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان اختلافات میں شدت آتی ہے تو نئے صوبوں کا معاملہ آئندہ سیاسی محاذ آرائی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

محسن نقوی کے بیان سے حکومت کے اندر اختلافات؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کو بھی پروگرام میں زیر بحث لایا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق محسن نقوی نے اپنے بیان کی وضاحت ضرور کی، تاہم کابینہ اجلاس اور حکومتی کارکردگی سے متعلق ان کے سوالات نے یہ بحث ضرور چھیڑ دی کہ وفاقی حکومت کے اندر پالیسی اور گورننس کے حوالے سے اختلافات کس حد تک موجود ہیں۔

ساتھ ہی یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ موجودہ نظام کی مشکلات کے باوجود شہباز شریف حکومت کی جانب سے نظام کو چلانے اور کام جاری رکھنے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

جماعت اسلامی کا پٹرول احتجاج؛ عوامی مسئلہ یا سیاسی کریڈٹ؟

جماعت اسلامی کے پٹرول کی قیمتوں کے خلاف احتجاج پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

تجزیہ کاروں نے تسلیم کیا کہ عوامی مسائل پر سیاسی جماعتوں کا سڑکوں پر آنا اہم ہے، تاہم احتجاج کے دوران ٹریفک جام اور شہریوں کے اضافی پٹرول خرچ ہونے جیسے مسائل بھی عوام کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

گفتگو میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ جماعت اسلامی ماضی میں پٹرول اور بجلی سمیت عوامی مسائل پر احتجاج کرکے سیاسی کریڈٹ لینے کی کوشش کرتی رہی ہے اور موجودہ احتجاج کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان، پی ٹی آئی اور ممکنہ اپوزیشن اتحاد

پروگرام میں مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کے درمیان ممکنہ سیاسی تعاون بھی زیر بحث آیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے حلقوں میں پی ٹی آئی کی سنجیدگی پر سوالات موجود ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان متعدد ملاقاتوں کے باوجود عملی پیش رفت نہ ہونے کو بھی اختلاف کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا۔

اس کے ساتھ یہ تاثر بھی زیر بحث آیا کہ مستقبل کی حکومت مخالف سیاسی سرگرمیوں میں مولانا فضل الرحمان ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے درمیان اعتماد کا فقدان اس راستے میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

پاکستان کی سیاست؛ ستمبر اور اکتوبر فیصلہ کن؟

اے کیو ایس لائیو کی گفتگو کا مجموعی تاثر یہی رہا کہ پاکستان میں سیاسی سرگرمیاں آئندہ چند ہفتوں میں مزید تیز ہو سکتی ہیں۔

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان سیاسی فاصلے، نئے صوبوں کی بحث، جماعت اسلامی کی احتجاجی سیاست، مولانا فضل الرحمان کا ممکنہ کردار، پی ٹی آئی کی اندرونی کشمکش اور 27 ستمبر کی سیاسی کال—یہ تمام عوامل آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کو مزید گرما سکتے ہیں۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ سیاسی شور کو فوری طور پر حکومت کے خاتمے یا کسی حتمی سیاسی تبدیلی کی علامت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

ایک طرف مکہ ڈیفنس پیکٹ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو نئی سمت دی ہے، تو دوسری طرف اندرونِ ملک سیاسی محاذ پر ستمبر کے ممکنہ واقعات نے سوال اٹھا دیا ہے: کیا اگلے چند ہفتے پاکستان کی سیاست کے لیے واقعی غیر معمولی ثابت ہونے جا رہے ہیں؟

ویڈیو دیکھیں 👇🏼