‘جو عالمی طاقتیں نہ کر سکیں وہ پاکستان نے کر دکھایا’: امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان کا کلیدی کردار: ساؤتھ ایشین وائسز

اسلام آباد: جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی، سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر نظر رکھنے والے معروف پالیسی پلیٹ فارم ‘ساؤتھ ایشین وائسز’ (South Asian Voices) کے تجزیے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی کو کم کرنے اور دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان کا ثالثی کا کردار انتہائی اہم اور تاریخی رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپنی منفرد جغرافیائی حیثیت اور امریکا و ایران دونوں کے ساتھ موجود اعتماد پر مبنی تعلقات کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے وہ سفارتی پیش رفت ممکن بنائی جو چین، فرانس، جرمنی، بھارت اور برطانیہ جیسی عالمی طاقتیں بھی حاصل نہ کر سکیں۔

اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان 20 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے یہ مذاکرات 1979 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کا براہِ راست رابطہ قرار دیے گئے ہیں۔

تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے ایسے وقت میں یہ قدم اٹھایا جب دونوں فریقین جنگ اور شدید کشیدگی سے بھاری نقصان اٹھا رہے تھے۔ اگرچہ دونوں جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی سامنے آئے، تاہم دونوں نے مذاکراتی عمل کو بالکل ختم نہیں کیا۔

ساؤتھ ایشین وائسز کا کہنا ہے کہ اس تنازع کی پیچیدگی بنیادی اختلافات کے باعث ہے اور کسی بھی تعطل کی ذمہ داری ثالث (پاکستان) پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ رپورٹ کے مطابق اگر آئندہ بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو فریقین دوبارہ اسلام آباد کا رخ کر سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان کا اصل سفارتی اثاثہ دونوں فریقین تک رسائی اور ناقابلِ انکار قبولیت ہے۔