بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف ‘آپریشن شعبان’ تیزی سے جاری؛ اب تک 79 خوارج ہلاک

کوئٹہ: منگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ واقعے کے بعد پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور بلوچستان پولیس کی جانب سے صوبے کے مختلف حصوں میں شروع کیا گیا مشترکہ ‘آپریشن شعبان’ پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف جدید انٹیلی جنس، فضائی نگرانی اور زمینی دستوں کی مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کا گھیرا مزید تنگ ہو چکا ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے زمینی اور ہوائی ایکشنز کے ذریعے مزید 13 سے 17 خارجی دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے، جس کے بعد صرف ‘آپریشن شعبان’ میں مارے جانے والے خوارج کی مجموعی تعداد 39 سے بڑھ کر 43 تک پہنچ گئی ہے۔

اس سے قبل 6 اور 7 جولائی کو بھی مختلف کامیاب کارروائیوں میں 26 دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے۔

‘آپریشن شعبان’ کے علاوہ آج صبح خضدار کے علاقے زیدی میں دہشت گردوں کی جانب سے پولیس اسٹیشن پر کیا گیا ایک اور بزدلانہ حملہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔

پاک فوج اور ایف سی کے دستوں کی اس برق رفتار جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ علاقے میں جاری ہیلی کاپٹر آپریشنز کے دوران مزید 5 سے 6 دہشت گردوں کے مارے جانے کی مصدقہ اطلاعات ملی ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 5 جولائی سے جاری اس گرینڈ آپریشن اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں اب تک مجموعی طور پر 79 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں اور یہ آپریشن اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گا۔

صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف ان شاندار کامیابیوں پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وفاق وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پاک فوج، ایف سی اور بلوچستان پولیس کے افسران و جوانوں کی مروجہ بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

صدرِ مملکت آصف زرداری کا کہنا تھا کہ بھارت اور کچھ دیگر ممالک پاکستان کے خلاف ملک دشمن عناصر کو کرائے کے قاتلوں اور پراکسی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، لیکن وہ اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور وطنِ عزیز کے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اپنے بیانات میں اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک یہ سیکیورٹی کارروائیاں جاری رہیں گی اور پوری بہادر قوم اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔