انگلش کرکٹ کے ایک سنہری دور کا اختتام؛ ٹیسٹ کپتان بین اسٹوکس کا تمام فارمیٹس سے اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان
ناٹنگھم: دنیائے کرکٹ کے مایہ ناز آل راؤنڈر اور انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس نے تمام طرز کی بین الاقوامی کرکٹ سے اچانک اور مستقل ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے کرکٹ کونسل اور مداحوں کو حیران کر دیا ہے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق، ناٹنگھم کے تاریخی گراؤنڈ ٹرینٹ برج میں نیوزی لینڈ کے خلاف جاری تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ بین اسٹوکس کے 15 سالہ طویل عسکری و شاندار بین الاقوامی کرئیر کا آخری مقابلہ ثابت ہو گا۔
34 سالہ بین اسٹوکس نے میچ کے چوتھے روز کھیل کے باقاعدہ آغاز سے قبل ڈریسنگ روم میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں اور انگلش کرکٹ بورڈ کو اپنے اس حتمی فیصلے سے آگاہ کیا۔
اس اچانک فیصلے کے بعد جیسے ہی اسٹوکس گراؤنڈ میں آئے، تو ٹرینٹ برج میں موجود ہزاروں شائقینِ کرکٹ نے کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے ہوئے انہیں زبردست انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
بین اسٹوکس کا یہ تاریخی بین الاقوامی سفر سن 2011 میں انگلینڈ کی جانب سے ایک ٹی20 میچ سے شروع ہوا تھا، جس کے بعد دسمبر 2013 میں ایڈیلیڈ کے میدان پر روایتی ایشز سیریز کے دوران انہوں نے اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔
وہ اپریل 2022 سے انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی باقاعدہ قیادت کر رہے تھے اور اپنی جارحانہ کپتانی (بیز بال کانسپٹ) سے انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔
ای سی بی کے چیئرمین رچرڈ تھامپسن نے بین اسٹوکس کو انگلینڈ کی تاریخ کے عظیم ترین کرکٹرز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسٹوکس نے انگلینڈ کو 2019 کا ون ڈے ورلڈ کپ اور 2022 کا ٹی20 ورلڈ کپ جتوانے میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا تھا، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق، بین اسٹوکس کا یہ اچانک فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ حال ہی میں ایک بڑے آف دی فیلڈ تنازع کا شکار رہے تھے۔
لارڈز ٹیسٹ میں شاندار فتح کے بعد لندن کے چیلسی علاقے میں واقع ایک نائٹ کلب میں رات گئے جشن منانے کے معاملے پر انگلینڈ کرکٹ بورڈ اور کرکٹ ریگولیٹر نے ان کے خلاف تفتش شروع کی تھی۔
اس تادیبی انکوائری کے باعث وہ نیوزی لینڈ کے خلاف دی اوول میں کھیلا گیا دوسرا ٹیسٹ میچ بھی نہیں کھیل سکے تھے۔
اگرچہ ای سی بی نے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد انہیں تحریری وارننگ جاری کرتے ہوئے کسی بھی بڑی بدعنوانی یا سنگین ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے بری قرار دے دیا تھا، لیکن برطانوی میڈیا اور عوام کی جانب سے ان کے طرزِ عمل پر شدید تنقید کی جا رہی تھی، جس نے ممکنہ طور پر انہیں ذہنی دباؤ میں ڈالا۔
اس کے باوجود وہ تیسرے ٹیسٹ میں واپس آئے اور انگلینڈ کی لاج بچانے کے لیے طویل اسپیلز کیے۔
بین اسٹوکس نے اپنے شاندار کیریئر کے دوران 121 ٹیسٹ میچز کھیل کر 7 ہزار 228 رنز بنائے اور 246 وکٹیں حاصل کیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے 114 ون ڈے میچز میں 3 ہزار 463 رنز اسکور کر کے 74 وکٹیں اور 43 ٹی20 میچز میں 585 رنز کے ساتھ 26 وکٹیں اپنے نام کیں۔
ان کی رخصتی کو انگلش کرکٹ کے ایک سنہری، جارحانہ اور بے خوف دور کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

