افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی؛ پاکستان نے بھارتی وزارتِ خارجہ کے مضحکہ خیز اور بے بنیاد بیان کو یکسر مسترد کر دیا
اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کے اندر دہشت گرد گروہوں کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کی جانے والی اپنی جائز، ٹارگٹڈ اور متناسب عسکری کارروائیوں کے بارے میں بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بے بنیاد، من گھڑت اور مضحکہ خیز بیان کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے 29 جون کے بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کا یہ اینٹی ٹیرر ایکشن بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے تھا، لہٰذا اس پر بھارتی ہرزہ سرائی کی عالمی سطح پر کوئی اہمیت نہیں ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ یہ کارروائیاں پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد افغان صوبے پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں کی گئی تھیں، جن میں فتنۃ الخوارج اور جماعت الاحرار کی کمین گاہوں کو نشانہ بنا کر 29 عبرت ناک دہشت گرد ہلاک اور ان کا بھاری اسلحہ و گولہ بارود تباہ کیا گیا تھا۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے اپنے تفصیلی بیان میں بھارت کو سخت آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ مضحکہ خیز بیان ایک ایسے ملک کی طرف سے سامنے آیا ہے جو تاریخی طور پر اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا رہا ہے اور ان کی خودمختاری کو نقصان پہنچاتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو ملک خود اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر (IIOJK) کے معصوم عوام کے جائز حقِ خودارادیت کو مسلسل دبا رہا ہے، اسے پاکستان کے دفاعی اقدامات پر انگلی اٹھانے کا کوئی اخلاقی و قانونی حق حاصل نہیں ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے ایک مہیب تزویراتی انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ بھارت درحقیقت خود افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف سرگرم ممنوعہ دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت اور منظم سرپرستی میں ملوث ہے، جو کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کے پابندیوں کے نظام کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت مسلسل خطے میں پائیدار امن کو نقصان پہنچانے والے ایک شرپسند کردار کے طور پر کام کر رہا ہے، اس لیے اس کے اشتعال انگیز بیانات کو عالمی برادری سنجیدگی سے نہ لے۔
دفترِ خارجہ نے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے شہریوں کی سلامتی، بقا اور ملکی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اور ضروری اقدامات آئندہ بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گا۔

