پاکستان نے ‘معرکۂ حق’ میں بھارت پر واضح عسکری و سفارتی بالادستی حاصل کی، برطانوی ریسرچ فرم

لندن: برطانیہ کی معروف ریسرچ اور اسٹریٹجک کمیونیکیشن فرم "پلے بک” نے ‘معرکۂ حق’ کے حوالے سے ایک انتہائی مہیب اور چشم کشا عالمی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے معرکۂ حق کے دوران روایتی حریف بھارت کے خلاف عسکری میدان اور بین الاقوامی سفارتی محاذ پر غیر معمولی اور واضح تزویراتی برتری حاصل کی ہے۔

برطانوی فرم کی رپورٹ میں ٹھوس شواہد کے ساتھ انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی مؤثر دفاعی حکمتِ عملی اور مضبوط فضائی نظام کے باعث بھارتی فضائیہ کے حملے اپنے تزویراتی اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے، جبکہ پاکستان کے مضبوط فضائی نظام نے دشمن کے جدید ترین ڈرونز کو بھی فضا میں ہی غیر مؤثر بنا دیا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے سب سے چونکا دینے والے نکات کے مطابق، معرکۂ حق کے دوران عسکری میدان میں پاکستان کی فضائی بالادستی اس وقت ثابت ہوئی جب فرانسیسی ساختہ رافیل (Rafale) طیاروں سمیت متعدد بھارتی جنگی طیارے تباہ ہوئے۔

اس مالی و عسکری نقصان کی توثیق نہ صرف امریکی اور فرانسیسی انٹیلی جنس حکام نے خفیہ طور پر کی ہے، بلکہ خود بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف (CDS) اور دفاعی اتاشی بھی بین الاقوامی سطح پر دباؤ کے بعد بھارتی نقصانات کا کھلے عام اعتراف کر چکے ہیں۔

رپورٹ میں سیٹلائٹ تصاویر اور ناقابلِ تردید گراؤنڈ شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے دوٹوک تصدیق کی گئی ہے کہ اس پوری لڑی میں پاکستان کے کسی بھی جنگی طیارے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، جس سے بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے۔

برطانوی ادارے کی رپورٹ میں معرکۂ حق کے بعد پیدا ہونے والی سفارتی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس معرکے کے بعد پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے اس کے کردار کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، معرکۂ حق کے فوری بعد ریاستہائے متحدہ امریکا (USA) اور یورپی یونین (EU) سمیت دنیا کی بڑی تزویراتی طاقتوں کے ساتھ پاکستان کے سفارتی و دفاعی تعلقات کو ازسرِ نو فروغ دینے اور مضبوط بنانے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے انتہائی کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا، جس کے دور رس نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

پلے بک کی تحقیقاتی رپورٹ اس تزویراتی نتیجے پر ختم ہوتی ہے کہ جدید دور کی جنگوں میں کامیابی کا انحصار محض اربوں ڈالر کے بے پناہ دفاعی اخراجات پر نہیں ہوتا، بلکہ یہ مؤثر اور جرات مندانہ قیادت، پیشہ ورانہ مہارت، مخلصانہ عزم اور مضبوط دفاعی حکمتِ عملی سے حاصل کی جاتی ہے۔

پاکستان نے معاشی طور پر محدود وسائل ہونے کے باوجود اپنی اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ عسکری صلاحیت کے بل بوتے پر بھارت کو بھاری مالی و دفاعی نقصان سے دوچار کر کے خطے کا تزویراتی توازن برقرار رکھا ہے۔