کابل: افغانستان شدید داخلی انتشار، معاشی بدحالی اور بڑھتی ہوئی عسکری بغاوت کے باعث ایک نئے مہیب بحران کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔
دارالحکومت کابل کے شہریوں اور مقامی معاشی ماہرین نے طالبان حکومت کی جانب سے ملک میں بہتر معیشت اور خوشحالی کے کیے جانے والے تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
کابل کے عوام کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کی معاشی ترقی کی باتیں زمینی اور روزمرہ زندگی کی حقیقتوں سے قطعی مطابقت نہیں رکھتیں۔
افغانستان کے معروف مقامی اخبار "ہشت صبح” کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، شہریوں اور تاجروں کا مؤقف ہے کہ طالبان کی جانب سے افغان خواتین پر عائد کردہ سخت ترین سماجی پابندیوں اور انہیں دانستہ طور پر معاشی سرگرمیوں سے دور رکھنے کے ناعاقبت اندیشانہ فیصلوں کے باعث افغان معیشت کو ناقابلِ تلافی اور مہیب نقصان پہنچا ہے۔
اس معاشی تباہی کی تائید کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے منتظم کا کہنا ہے کہ افغان خواتین کی لیبر فورس اور معیشت میں فعال شرکت کے بغیر افغانستان کی پائیدار بحالی کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے۔
اخبار کے مطابق، افغان مزدوروں نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکمرانوں کو بلند بانگ دعوے کرنے سے پہلے فاقہ کشی کا شکار عوام سے پوچھنا چاہیے کہ کیا وہ واقعی خوشحال ہیں؟

