معاہدہ سبوتاژ کیا تو قیمت بھاری ہو گی، پانی روکنا اعلانِ جنگ تصور ہو گا، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی بھارت کو وارننگ

اسلام آباد: نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے روایتی حریف بھارت کو انتہائی سخت اور تزویراتی الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ سرحد پار بہنے والے دریاؤں سے متعلق کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو کمزور کرنے یا سبوتاژ کرنے کی قیمت نئی دہلی کے لیے بہت بھاری ہو سکتی ہے۔

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کی اہمیت، آبی وسائل کے تحفظ اور علاقائی تعاون کے موضوع پر منعقدہ ایک مہیب بین الاقوامی سیمینار کے خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قانون اور پابند معاہدوں کی خلاف ورزی صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ عالمی نظام، ریاستوں کی ساکھ، باہمی اعتماد اور علاقائی امن و سلامتی کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔

اسحاق ڈار نے مئی 2025 کے آبی بحران اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے مہیب اعلان کا تزویراتی حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس وقت منعقدہ قومی سلامتی کمیٹی (NSC) کے ہنگامی اجلاس میں سول اور عسکری قیادت نے متفقہ طور پر یہ مہیب فیصلہ کیا تھا کہ اگر پاکستان کے حصے کے پانی کا رخ موڑنے، اس کی فراہمی روکنے یا اس کے قانونی و معاہداتی حقوق میں کسی بھی قسم کی کمی لانے کی کوشش کی گئی تو اسے ریاستِ پاکستان کے خلاف "جنگ کے مترادف اقدام” (Act of War) تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پوری قومی یکجہتی کے ساتھ کیا گیا یہ فیصلہ آج بھی برقرار ہے اور پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے تزویراتی عزم پر سختی سے قائم ہے۔

نائب وزیرِ اعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کے لیے سندھ طاس معاہدہ کوئی محض نظریاتی یا قانونی بحث نہیں، بلکہ یہ ملک کے 25 کروڑ سے زائد شہریوں کی زندگی، زراعت، غذائی تحفظ، توانائی اور معیشت کا بنیادی ستون ہے، لہٰذا پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر کسی بھی قسم کا غیر قانونی قبضہ، ڈیموں کی متنازع تعمیر یا تجاوز ہرگز قبول نہیں کرے گا۔

انہوں نے بھارت کو مخلصانہ مشورہ دیا کہ وہ خطے میں جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے اور جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو خطرے میں نہ ڈالے، کیونکہ پائیدار امن کا راستہ طاقت یا دھمکی نہیں بلکہ سفارت کاری اور معاہداتی طریقۂ کار ہے۔

اس اہم ترین سیمینار میں وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، سابق وفاقی وزراء خرم دستگیر اور احمد بلال صوفی، سابق صدر این ڈی یو لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض، انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر ایمبیسیڈر جوہر سلیم اور انڈس واٹر ٹریٹی کمشنر سید مہر علی شاہ سمیت متعدد ملکی و بین الاقوامی آبی ماہرین شریک تھے۔

اسحاق ڈار نے شرکاء کو یقین دلایا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے اور اچھے ہمسایہ تعلقات پر یقین رکھتا ہے، تاہم وہ بین الاقوامی قانون کے تحت دستیاب تمام قانونی اور سفارتی ذرائع سے اپنے جغرافیائی اور معاشی مفادات کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنائے گا۔