لیونل میسی کا تاریخ ساز ورلڈ ریکارڈ؛ فیفا ورلڈ کپ کے مسلسل 7 میچز میں گول کرنے والے دنیا کے پہلے فٹبالر بن گئے
نیویارک: دنیائے فٹبال کے جادوگر اور ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی نے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایک اور کبھی نہ ٹوٹنے والا تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے عالمی ریکارڈ بک میں اپنا نام سنہرے حروف سے لکھوا لیا ہے۔
میسی ورلڈ کپ کی تاریخ میں مسلسل 7 میچز میں گول داغنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، گروپ مرحلے کے آخری اور انتہائی اہم میچ میں ارجنٹائن نے اردن کی ٹیم کو 1-3 سے شکست دے کر گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔
اس میچ میں لیونل میسی نے آغاز بینچ سے کیا تھا اور وہ 60ویں منٹ میں متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں اترے، جہاں اسٹیڈیم میں موجود 70 ہزار سے زائد تماشائیوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے ہوئے ان کا والہانہ استقبال کیا۔
میسی نے کھیل کے 80ویں منٹ میں روایتی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک شاندار فری کک پر گیند کو جال کی راہ دکھائی اور نیا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔
اس سحر انگیز گول کے ساتھ ہی لیونل میسی نے فرانس کے جسٹ فونٹین (1958 ورلڈ کپ) اور برازیل کے جائرزینہو (1970 ورلڈ کپ) کا مسلسل 6 ورلڈ کپ میچوں میں گول کرنے کا 5 دہائیوں پرانا ریکارڈ توڑ کر تاریخ کا رخ بدل دیا ہے۔
میسی کا ورلڈ کپ میں مسلسل گولز اسکور کرنے کا یہ ناقابلِ یقین سلسلہ قطر ورلڈ کپ 2022 میں آسٹریلیا کے خلاف پری کوارٹر فائنل میچ سے شروع ہوا تھا، جس کے بعد انہوں نے نیدرلینڈز، کروشیا اور فرانس کے خلاف فائنل میں بھی گول داغ کر ارجنٹائن کو عالمی چیمپئن بنوایا تھا۔
موجودہ فیفا ورلڈ کپ 2026 میں بھی میسی سحر انگیز فارم میں دکھائی دے رہے ہیں؛ وہ اس سے قبل الجزائر کے خلاف یادگار ہیٹ ٹرک اور آسٹریا کے خلاف شاندار دو گول کر چکے ہیں اور اب اردن کے خلاف بھی انہوں نے جادو جگایا ہے۔
اردن کے خلاف اس تاریخی گول کے بعد اب فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں میسی کے مجموعی گولز کی تعداد بڑھ کر 19 ہو گئی ہے، جس کے ساتھ انہوں نے مردوں کے ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے کے اپنے ریکارڈ کو مزید بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔
یہ میسی کے شاندار فٹبال کیریئر کا فری کک پر مجموعی طور پر 72واں جبکہ ارجنٹائن کی قومی ٹیم کی طرف سے کھیلتے ہوئے 12واں فری کک گول تھا۔ اب وہ بین الاقوامی فٹبال میں 202 میچز کھیل کر مجموعی طور پر 123 گول اسکور کر چکے ہیں۔

