کراچی: پاکستان کی معروف اور خوبرو اداکارہ، ماڈل و ہوسٹ عائشہ عمر نے تقریباً 10 برس قبل اپنی قریبی دوست اور سینئر اداکارہ ماریہ واسطی کے ساتھ تھائی لینڈ کے ساحل پر چھٹیاں منانے کے دوران لیک ہونے والی نجی تصاویر کے تنازع پر پہلی بار کھل کر بات کی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ (BBC) کو دیے گئے ایک خصوصی اور تہلکہ خیز انٹرویو میں عائشہ عمر نے انکشاف کیا کہ وہ ماریہ واسطی کے ساتھ تھائی لینڈ میں نجی دورے پر تھیں جب ان کی اجازت اور رضامندی کے بغیر ان کے لیپ ٹاپ سے تصاویر چوری کی گئیں اور انہیں انٹرنیٹ پر وائرل کر دیا گیا۔
اداکارہ نے بتایا کہ ان تصاویر میں وہ ایک عام سوئمنگ سوٹ (Swimming Suit) جبکہ دیگر تصاویر میں شارٹ اسکرٹس اور موسمِ گرما کے لباس میں ملبوس تھیں، جنہیں آن لائن پوسٹ کر کے ان کی پرائیویسی کو بری طرح پامال کیا گیا۔
عائشہ عمر نے اس واقعے کے اپنے کیریئر پر پڑنے والے دور رس اور منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ تصاویر منظرِ عام پر آنے کے بعد انہیں عوامی سطح پر بدترین تنقید اور سوشل میڈیا ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا، جس نے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کے شوبز پروڈیوسرز اور برانڈز خواتین کے لیے ایک مخصوص روایتی اور سماجی تاثر (Social Image) کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے، جس کی وجہ سے اس تنازع کے بعد انہیں بعض بڑے پراجیکٹس اور قیمتی برانڈ ڈیلز سے مجبوراً ہاتھ دھونا پڑا۔
اداکارہ نے اعتراف کیا کہ یہ ہولناک تجربہ ان کی ذہنی صحت پر بھی گہرے زخم چھوڑ گیا؛ وہ کئی برسوں تک شدید ذہنی تناؤ اور مستقل “ہائپر ویجیلنس” کا شکار رہیں، جہاں اب بھی وہ ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتی ہیں کہ کہیں کوئی ان کی تصویر یا ویڈیو ان کی اجازت کے بغیر ریکارڈ نہ کر رہا ہو۔
اداکارہ عائشہ عمر کا یہ سنسنی خیز انکشاف عالمی گلوبل ویمن رپورٹ اور جینڈر جسٹس آرگنائزیشن ‘چین’ (Chayn) کی ایک نئی سائنسی تحقیق کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس کا عنوان "Explicit Harms of Non-Explicit Images” رکھا گیا ہے۔
اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور قوانین بنانے والے ادارے تصویر پر مبنی ہراسگی کو صرف اور صرف “عریانیت” کے چشمے سے دیکھتے ہیں، جبکہ اصل اور حقیقی مسئلہ “رضامندی اور اجازت” کا ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، روایتی معاشروں میں خواتین کی مکمل لباس میں موجود عام نجی تصاویر کو بھی اگر بغیر اجازت وائرل کیا جائے، تو وہ ان کے لیے شدید سماجی اور پیشہ ورانہ نقصان کا باعث بنتی ہیں۔
عائشہ عمر نے کہا کہ ان کا برسوں بعد اس موضوع پر بات کرنے کا مقصد صرف اپنی بپتا سنانا نہیں، بلکہ لوگوں میں یہ شعور بیدار کرنا ہے کہ کسی کی نجی معلومات پھیلانا ایک سنگین جرم ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اب وہ ایک این جی او کے ساتھ مل کر نجی ڈیٹا کے غلط استعمال اور ڈیجیٹل ہراسگی کے خلاف باقاعدہ ایک بڑی آگاہی مہم چلا رہی ہیں۔

