اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں کچھ اہم شعبوں کے لیے رعایتیں حاصل کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق، پاکستان ٹیکس وصولیوں کے اہداف میں نرمی اور توانائی کی قیمتیں کم کرنے کی درخواست کرے گا، جبکہ معاشی نمو کو تیز کرنے کے لیے ازسرِنو ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمے دو ہفتوں کے اندر اپنی تجاویز وزارتِ خزانہ کو ارسال کریں گے، جن میں صنعتی شعبے کی مشکلات کم کرنے کے لیے وزارتِ صنعت و پیداوار کی تیار کردہ سفارشات بھی شامل ہوں گی۔
وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں صنعتوں کی بحالی، عوام اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے پر واضح حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
اسی تناظر میں صنعتوں اور بڑی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس اور پاور ٹیرف میں کمی کی تجاویز بھی زیر تیاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر نے قرض پروگرام کے دائرے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور حکومت آئی ایم ایف کو تیز معاشی گروتھ کے لیے اپنی ترجیحات سے آگاہ کرے گی۔
ادھر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزے کے مذاکرات آئندہ ماہ متوقع ہیں، جائزہ مکمل ہونے کی صورت میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملے گی۔
حکومت ریلیف کے متبادل کے طور پر ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ایف بی آر کی آمدن میں اضافے کی تجاویز بھی پیش کرے گی۔

