پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر موصول، اسٹیٹ بینک کی تصدیق

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کیلئے منظور کی گئی قسط کے تحت 1 ارب 20 کروڑ ڈالر جاری کر دیے، جس کی اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ حکام کے مطابق، یہ رقم اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو چکی ہے اور اسے 12 دسمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے زرمبادلہ ذخائر میں شامل کیا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق، پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF) کے تحت 1 ارب ڈالر جبکہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (RSF) کے تحت موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے 20 کروڑ ڈالر فراہم کیے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے 8 دسمبر کو مجموعی 1.2 ارب ڈالر کے اجرا کی منظوری دی تھی۔

ادارے کے مطابق، دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کیلئے مجموعی ادائیگیاں 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے اصلاحاتی اقدامات میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس کے باعث مشکل عالمی حالات اور سیلابوں کے باوجود معاشی استحکام برقرار رہا۔ مالی سال 2025 میں بنیادی سرپلس 1.3 فیصد ریکارڈ کیا گیا جو ہدف کے مطابق ہے۔

مہنگائی میں اضافے کو عارضی قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا کہ یہ اضافہ بنیادی طور پر غذائی رسد میں رکاوٹوں کے باعث ہوا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ ذخائر 14.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور آئندہ مالی سال میں مزید اضافے کی توقع ہے۔

ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بعد ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر نائیجل کلارک نے کہا کہ پاکستان کی معاشی اصلاحات نے مشکل حالات میں میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نمو میں بہتری اور مالی خساروں میں کمی مثبت اشارے ہیں، تاہم عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان کو محتاط پالیسیوں کے ساتھ اصلاحات کی رفتار مزید تیز کرنا ہوگی۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ساتھ ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی پاکستان کیلئے 33 کروڑ ڈالر کی منظوری دی ہے، جبکہ گزشتہ روز امریکی بینک ایگزم نے پاکستان کیلئے بڑے مالیاتی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔