27ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے منظور

اسلام آباد، قومی اسمبلی نے تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے 27ویں آئینی ترمیمی بل دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا، جس کے ساتھ ہی ملک میں ایک نئے وفاقی آئینی عدالتی نظام کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ ترمیم ایک ارتقائی عمل ہے جو ملکی عدالتی نظام کو مضبوط بنائے گی۔‘‘

قومی اسمبلی نے ترمیمی بل کے حق میں 234 ووٹ اور مخالفت میں 4 ووٹ کے ساتھ بل منظور کیا، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

ترمیم کے دوران حکومت کی جانب سے آٹھ نئی ترامیم شامل کی گئیں، جن میں سے چار شقیں نکالی گئیں اور چار نئی شقیں شامل کی گئیں۔ اس کے بعد ایوان نے تمام 59 شقوں کو شق وار ووٹنگ کے ذریعے منظور کرلیا۔

وزیر قانون کے مطابق، ’’27ویں آئینی ترمیم‘‘ کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی منظوری دی گئی ہے، جس کے چیف جسٹس کا تقرر تین سال کے لیے کیا جائے گا جبکہ ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال مقرر ہوگی۔

ترمیم کے مطابق، آرٹیکل 6 کی شق 2A میں تبدیلی کر کے عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کے ساتھ وفاقی آئینی عدالت کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 10 سمیت پانچ دیگر آئینی شقوں میں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کو باضابطہ طور پر شامل کیا گیا ہے۔

ترمیم کے تحت، چیف جسٹس آئینی عدالت اور چیف جسٹس سپریم کورٹ میں سے سینیئر چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے۔

مزید یہ کہ اب صدرِ مملکت، چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل سے حلف لینے کے مجاز بھی چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل سینیٹ نے بھی 27ویں آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا تھا، جس کے بعد اسے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ’’قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم بھاری اکثریت سے منظور کرلی ہے، یہ پاکستان کے آئینی و عدالتی نظام میں استحکام کا نیا باب ہے۔‘‘

آئینی ماہرین کے مطابق، 27ویں آئینی ترمیم سے ملک میں عدالتی نظام مزید منظم ہوگا، مختلف عدالتوں کے دائرہ اختیار واضح ہوں گے، اور آئین کی تشریح سے متعلق تنازعات کم ہونے کی امید ہے۔