اسلام آباد: جی الیون سیکٹر میں منگل کی دوپہر تقریباً ساڑھے بارہ بجے کچہری کے قریب ایک زوردار خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 30 افراد زخمی ہو گئے، جن میں سے چارپولیس اہلکار سمیت 7 کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
پولیس کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار خودکش حملہ آور نے پولیس کی گاڑی کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے کے نتیجے میں قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور حملہ آور کے اعضا کچہری کے اندر جاگرے۔ اس واقعے میں تین گاڑیاں متاثر ہوئیں جن میں ایک پولیس کی گاڑی اور دو پرائیویٹ گاڑیاں شامل ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں وکلا اور عام شہری بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر پمز اسپتال منتقل کیا گیا اور اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو سیل کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دھماکے میں ہندوستانی سپانسرڈ عناصر اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج ملوث ہو سکتے ہیں۔ حکام نے اس واقعے کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے کی جگہ کو سیل کر کے علاقے کو کنٹرول میں لے لیا اور قریبی علاقوں میں کسی دوسرے ممکنی شرپسند کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گرد عوام کے حوصلے کو نہیں توڑ سکتے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کے ذمہ داروں کا سراغ لگانے کے لیے تمام وسائل استعمال کر رہے ہیں۔

