سعودی ولی عہد کی دعوت پر ریاض روانگی، امریکہ ایران مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی قیادت کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کل سعودی عرب کے ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر ان سے ملاقات کریں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی اور اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کے تناظر میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سعودی قیادت کو اسلام آباد مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت، فریقین کی جانب سے شیئر کیے گئے مسودوں اور پائیدار امن کے حصول کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں سے تفصیلی طور پر آگاہ کریں گے۔
اس موقع پر سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے مسلسل معاشی و سیاسی حمایت پر اظہارِ تشکر بھی کیا جائے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کا تعاون اور پاکستان کا ثالثی کردار خطے کو ایک بڑے جنگی بحران سے نکالنے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
حالیہ سفارتی پیش رفت کے باعث وزیراعظم کے دورے کے شیڈول کو ری شیڈول کیا گیا ہے، جس کے تحت وہ پہلے سعودی عرب، پھر قطر اور آخر میں ترکیہ جائیں گے۔ ان دوروں کا بنیادی مقصد دوست ممالک کی قیادت کو علاقائی صورتحال پر اعتماد میں لینا اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی جیسے سنگین مسائل پر مشترکہ حکمتِ عملی تیار کرنا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سعودی ولی عہد سے ملاقات میں نہ صرف عالمی و علاقائی امن پر بات کریں گے بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے بھی اہم امور زیرِ بحث لائیں گے۔
اس دورے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ ہوں گے، جو مختلف سطحوں پر اپنے ہم منصبوں سے مشاورت کریں گے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق، وزیراعظم کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسلام آباد عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے اور دنیا کی نظریں امریکہ ایران مذاکرات کے اگلے دور پر جمی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف قطر اور ترکیہ کے دوروں کے دوران بھی ان ممالک کی قیادت کو اسلام آباد امن عمل کا حصہ بننے اور خطے میں پائیدار جنگ بندی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی دعوت دیں گے۔
پاکستان کی یہ ‘پرو ایکٹو’ (Proactive) سفارت کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک ایک ذمہ دار اور کلیدی ریاست کے طور پر عالمی امن کے لیے اپنا مخلصانہ کردار ادا کر رہا ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اس سہ ملکی دورے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے راہ ہموار ہو گی اور خطے میں معاشی و سیاسی استحکام کی نئی لہر پیدا ہو گی۔

