اسلام آباد: وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ایران کے اعلیٰ سطح کے مذاکراتی وفد کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں پاکستان کی جانب سے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ‘مخلصانہ ثالث’ کے طور پر اپنا بھرپور کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ترجمان وزیراعظم آفس کے مطابق، ایرانی وفد کی قیادت ایران کی مشاورتی اسمبلی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وفد کی معاونت کی۔
اس اہم ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔
وزیراعظم نے اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی وفد کی شرکت کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ کوششیں عالمی اور علاقائی امن کے مفاد میں بامعنی اور مثبت نتائج کی جانب پیش رفت کو تیز کریں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خلوصِ نیت کے ساتھ فریقین کو قریب لانے کی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ کے سائے سے مستقل طور پر نکالا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا کردار محض میزبانی تک محدود نہیں بلکہ وہ امن و استحکام کے لیے ایک فعال سہولت کار کے طور پر کام کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے قبل ازیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں آنے والے امریکی وفد سے ہونے والی ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کا اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ان مذاکرات کے ذریعے مستقل جنگ بندی اور پائیدار امن کے حصول کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتا رہے گا۔
واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان کی دعوت پر دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود اسلام آباد پہنچے ہیں، جہاں پائیدار امن کے قیام کے لیے باقاعدہ بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے۔
وزیراعظم نے گزشتہ روز قوم سے خطاب میں بھی اس بات پر زور دیا تھا کہ پاکستان ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے اپنی تمام تر سفارتی توانائیاں صرف کر رہا ہے تاکہ خطے کے کروڑوں لوگوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکیں۔
ایرانی وفد نے پاکستان کی ان کوششوں، بالخصوص وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ذاتی دلچسپی اور مدبرانہ حکمتِ عملی کو سراہا۔ سفارتی حلقے ان ملاقاتوں کو دہائیوں پر محیط دشمنی کے خاتمے اور عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے قد کا واضح ثبوت قرار دے رہے ہیں۔

