لاس اینجلس کی اعلیٰ عدالت میں میٹا (فیس بک اور انسٹاگرام) اور گوگل کی ذیلی کمپنی یوٹیوب کے خلاف ایک تاریخی مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے، جس میں الزام ہے کہ ان پلیٹ فارمز کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ نوجوان اور کم عمر صارفین ان کے مستقل استعمال کے عادی بن جائیں۔
مقدمہ دائر کرنے والی خاتون کا مؤقف ہے کہ انسٹاگرام اور یوٹیوب کے مسلسل استعمال نے ان کی ذہنی صحت پر منفی اثرات ڈالے۔ ان کے وکیل کے مطابق کمپنیوں کو علم تھا کہ ایپس میں شامل فیچرز نوجوانوں کو زیادہ وقت آن لائن گزارنے پر اکساتے ہیں، جس سے ذہنی دباؤ اور دیگر نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔
عدالت میں پیش کیے گئے دلائل کے مطابق الگورتھمز اور نوٹیفکیشن سسٹمز کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ صارفین بار بار پلیٹ فارم پر واپس آئیں، اور یہ حکمتِ عملی منافع کے لیے اپنائی گئی۔
میٹا اور گوگل نے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ انہوں نے صارفین کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ کمپنیوں کے وکلا کا مؤقف ہے کہ مدعیہ کے مسائل کی وجوہات پیچیدہ اور متنوع ہو سکتی ہیں اور انہیں محض سوشل میڈیا کے استعمال سے جوڑنا درست نہیں۔
یہ مقدمہ 1980 کی دہائی میں تمباکو کمپنیوں کے خلاف مقدمات سے مشابہت رکھتا ہے، اور اگر جیوری کمپنیوں کو ذمہ دار قرار دیتی ہے تو یہ فیصلہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے ڈیزائن اور ضوابط کے حوالے سے نئے قانونی معیارات قائم کر سکتا ہے۔
مقدمے میں میٹا کے چیف مارک زکربرگ اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے بیانات متوقع ہیں۔

