میٹا کی انسٹاگرام، فیس بک اور واٹس ایپ میں پریمیم سبسکرپشن ماڈلز کی آزمائش شروع

دنیا کی بڑی ٹیک کمپنی میٹا نے اپنی مقبول سوشل میڈیا ایپس انسٹاگرام، فیس بک اور واٹس ایپ کے لیے نئے پریمیم سبسکرپشن ماڈلز کی آزمائش شروع کر دی ہے، جن کے تحت فیس ادا کرنے والے صارفین کو اضافی فیچرز، بہتر کنٹرولز اور جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس سہولیات تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔

میٹا کے ایک ترجمان کے مطابق ان سبسکرپشن پلانز کا مقصد صارفین کو بہتر ڈیجیٹل تجربہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کمپنی کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے، جبکہ ایپس کے بنیادی فیچرز بدستور مفت رہیں گے۔

رپورٹس کے مطابق ان منصوبوں میں اے آئی پر مبنی جدید ٹولز، مختصر ویڈیوز وائبز تک مکمل رسائی، بہتر پرائیویسی آپشنز، میسج آرگنائزیشن، اے آئی سپورٹڈ جوابات اور بزنس فیچرز شامل ہو سکتے ہیں۔

میٹا نے حال ہی میں اے آئی ایجنٹس سوٹ Manus بھی خریدا ہے، جسے ان سبسکرپشن پلانز کا حصہ بنایا جائے گا، جبکہ کمپنی کے اوپن سورس اے آئی ماڈلز لاما تک بنیادی رسائی مفت رہے گی۔

ذرائع کے مطابق انسٹاگرام کے پریمیم ورژن میں لامحدود آڈینس لسٹس، گمنام اسٹوری ویونگ، نان فالوورز کی رسائی اور زیادہ کنٹرول جیسے فیچرز متعارف کرائے جا سکتے ہیں، جو اس وقت پاور صارفین تیسرے فریق ٹولز سے حاصل کرتے ہیں۔

میٹا نے واضح کیا ہے کہ یہ نئے سبسکرپشن پلانز میٹا ویریفائیڈ سے الگ ہوں گے، جسے 2023 میں بلیو ٹک اور دیگر سہولیات کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ابتدائی آزمائش مختلف مارکیٹس میں مرحلہ وار کی جائے گی اور صارفین کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے فیچرز کو بہتر بنا کر بعد ازاں تمام صارفین کے لیے پیش کیا جائے گا، تاہم قیمتوں اور باضابطہ لانچ کی تاریخ سے متعلق ابھی کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔