نیٹو کا اسلحہ پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے، گورنر خیبرپختونخوا

پشاور: خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس اسمبلی میں فوج اور اداروں کے خلاف قراردادیں منظور کی جائیں، ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نیٹو کا چھوڑا ہوا اربوں روپے کا اسلحہ پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر کے پی نے افسوس کا اظہار کیا کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے شرکت نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرمی چیف پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ ملک میں کوئی نیا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا، لیکن خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو نجانے کہاں سے یہ خبر ملی کہ آپریشن شروع کیا جا رہا ہے؟

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ افغانستان سے مذاکرات وفاق کی ذمہ داری ہے، کسی صوبے کو یہ اختیار نہیں کہ وہ خود مختار خارجہ پالیسی بنائے۔ انہوں نے طنزیہ سوال کیا کہ کیا بلوچستان ایران سے یا پنجاب بھارت سے براہ راست بات کر سکتا ہے؟

گورنر کے پی نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں نیٹو کی افواج کے چھوڑے ہوئے 8 سے 10 ارب روپے کے اسلحے کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں یہی لوگ طالبان کے دفاتر کھولنے کی پیش کش کرتے تھے، لیکن آج تک کسی شہید کے جنازے میں شرکت کرنے نہیں گئے۔

افغان شہریوں سے متعلق پالیسی پر بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ یہ معاملہ ریاستی پالیسی کا حصہ ہے، کسی فرد یا جماعت کا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا یورپ کے کسی ملک میں ویزے کے بغیر رہا جا سکتا ہے؟ افغان باشندوں سے متعلق انہیں افغان قونصل جنرل کا ایک خط موصول ہوا تھا، جسے انہوں نے وفاقی حکومت کو ارسال کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کا انعقاد ہونا چاہیے، لیکن خیبرپختونخوا سے اس میں شرکت کون کرے گا؟ ان کے مطابق، خیبرپختونخوا حکومت میں خزانے کا کوئی وزیر ہی موجود نہیں، جس کی وجہ سے کابینہ میں ردوبدل ناگزیر ہو چکا ہے۔