سیالکوٹ: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے صحت کے شعبے میں پھیلی کرپشن اور پمز اسپتال کے حالیہ سانحے کو ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جتنی لوٹ مار صحت کے شعبے میں ہے اتنی کہیں اور نہیں، جبکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی بھی انتہائی ناگزیر ہو چکی ہے۔
سیالکوٹ میں ورکرز کے لیے جدید طبی سہولیات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ انسپکشن اور ریگولیٹری اداروں کا حال یہ ہے جیسے چوروں کو پولیس میں بھرتی کر دیا گیا ہو۔
انہوں نے کہا کہ پمز اسپتال میں پیش آنے والے واقعہ پر وزیراعظم نے نوٹس لیا ہے اور وہاں موجود کرپشن کے پورے نیٹ ورک کو توڑنا ہوگا۔ علاوہ ازیں انہوں نے اعلان کیا کہ جلد سیالکوٹ کے اسپتالوں میں کینسر کے علاج، برن یونٹ اور کارڈیک سینٹر کی سہولیات میسر ہوں گی۔
سیاسی صورتحال اور نئے انتظامی یونٹس پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھی لکھا کہ پیپلز پارٹی کا نئے صوبوں کے معاملے پر دوہرا معیار قائم ہے؛ پنجاب میں وہ سرائیکی صوبے کی حمایت کرتی ہے مگر سندھ میں انتظامی یونٹس کی بات پر سندھو دیش کا بیانیہ شروع ہو جاتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ 18ویں ترمیم کے تحت اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں ہوئے، جس سے نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، اس لیے صوبے بنیں یا انتظامی یونٹس، اختیارات کی منتقلی اب وقت کی اہم ضرورت ہے۔

