نئے انتظامی یونٹس کے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے، سندھ کی تقسیم میں کیا مسئلہ ہے؟ مصطفیٰ کمال

کراچی: وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ان کی جماعت انتظامی صوبوں یا یونٹس کی تشکیل کے مؤقف پر قائم ہے اور اس سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹی، 1973ء کے آئین میں نئے صوبوں کے قیام کی مکمل گنجائش موجود ہے۔

کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ملک کے پہلے انٹرنیشنل ٹریولرز ویکسینیشن سینٹر کی افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں 18 سال سے پیپلز پارٹی حکمران ہے لیکن کراچی سے کشمور تک عوام پینے کے صاف پانی اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ "جب کراچی کو 7 اضلاع میں تقسیم کرنے سے شہر نہیں ٹوٹا تو بہتر حکمرانی کے لیے سندھ کو 3 انتظامی حصوں میں تقسیم کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟” اصل جنگ لسانیت کی نہیں بلکہ وسائل اور اختیارات کو گلی محلوں تک منتقل کرنے کی ہے۔

دوسری جانب ترجمان حکومتِ سندھ سعدیہ جاوید نے مصطفیٰ کمال کے بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامی یونٹس کے نام پر سندھ کی جغرافیائی تقسیم کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو اضلاع میں بانٹنا اور سندھ کو تقسیم کرنا دو الگ باتیں ہیں؛ سندھ محض کوئی انتظامی نقشہ نہیں بلکہ ہزاروں سال قدیم تاریخ ہے، جسے کسی صورت بانٹنے نہیں دیا جائے گا۔