ایران میں حکومت کی تبدیلی اور انفرااسٹرکچر کی تباہی ہمارا ہدف ہے؛ نیتن یاہو کی دھمکی

تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کو شدید دھمکیاں دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے اسلامی جمہوری نظام کا خاتمہ اور اس کے انفرااسٹرکچر کو تباہ کرنا اب اسرائیل اور امریکا کی دسترس میں ہے۔

تل ابیب میں اسرائیلی فوج کے جنرل اسٹاف سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت اس وقت اپنی تاریخ کی کمزور ترین حالت میں ہے اور محض اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی نظام کا تختہ الٹنا اسرائیل کا مرکزی ہدف ہے اور اسے ہمیشہ کے لیے ختم کرنا اب ممکن ہو چکا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے وزارتِ دفاع کے حکام سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر کوئی حملہ کیا تو جواب میں اس کے فوجی، شہری اور توانائی کے تمام بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر اسے ”پتھر کے دور اور تاریکی“ میں دھکیل دیا جائے گا۔

یہ شدید بیان بازی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جولائی کے بعد سے شدید ترین براہِ راست عسکری جھڑپیں ہوئی ہیں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔