قاہرہ: چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے چار سالہ وقفے کے بعد مشرق وسطیٰ کے پہلے اہم دورے کے دوران مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کیے، جہاں انہوں نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ بیرونی مداخلت کو مسترد کر کے اپنی سلامتی کا نیا نظام خود تشکیل دیں۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کے مطابق، صدر شی جن پنگ نے خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے عوام کو اپنی تقدیر کا مالک خود ہونا چاہیے۔
انہوں نے نیا سیکیورٹی فریم ورک قائم کرنے کے لیے چار نکاتی تجویز پیش کی اور واضح کیا کہ مسئلۂ فلسطین خطے کے تنازع کا بنیادی مرکز ہے جسے کسی صورت پسِ پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ دہرے معیار ترک کر کے اقوام متحدہ کے مؤثر کردار کی حمایت کریں۔
آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی اور عالمی تجارتی راستوں کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا کہ بیجنگ خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر بین الاقوامی بحری راستوں اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے۔
واضح رہے کہ چین اور مصر نے اپنے دہائیوں پر محیط سفارتی تعلقات کو مزید وسعت دیتے ہوئے مشترکہ سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

