سندھ کی تقسیم کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد منظور؛ قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں سندھ کو ٹکڑے کرنے کی بات نہ کریں: مراد علی شاہ

کراچی: سندھ اسمبلی کے اجلاس میں صوبے کی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کے خلاف پیپلز پارٹی کے رکن نثار کھوڑو کی پیش کردہ قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی ہے۔ اجلاس کے دوران ایوان میں شدید بحث کے بعد ایم کیو ایم کے اراکین نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

سندھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کسی دوسرے مقام یا غیر متعلقہ فورمز پر بیٹھ کر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تقسیم یا اس کے ٹکڑے کرنے کی بات بھی نہ کی جائے۔

مراد علی شاہ نے ایم کیو ایم کے مؤقف کو دوغلا پن قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبادی کو نئے صوبوں کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا، بات صرف گورننس کی ہے تو انتظامی اصلاحات پر تفصیلی بحث ہو سکتی ہے۔

بحث کے دوران صوبائی وزیر سعید غنی نے واضح کیا کہ سندھ کی وحدانیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا اور ضرورت پڑنے پر وزارت و سیاست چھوڑی جا سکتی ہے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت صوبائی حدود میں تبدیلی کا اختیار صرف صوبائی اسمبلی کو ہے اور سندھ کی وحدت پر تمام بحث کو تاریخی دستاویز کے طور پر شائع کیا جائے گا۔