اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ریاستی سطح پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کے نتیجے میں قابلِ تصدیق انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات اور مؤثر سرحدی نظام عمل میں لایا جائے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے افغان ترجمان کے پاکستان پر مداخلت کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان عبوری حکومت دوحہ فریم ورک کے تحت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو TTP اور BLA جیسے پاکستان مخالف عناصر کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر طالبان رژیم کی سرپرستی میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی تو اسے پراکسی ہی شمار کیا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان تہران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں پر عمل کرنے کا پابند نہیں اور پاک ایران تجارت جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف 31 اگست کو بشکیک میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے اور پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
اس کے علاوہ انہوں نے فیلڈ مارشل اور وزیر داخلہ کے دورہ تہران کو خطے میں امن و کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی پرخلوص اور آزادانہ ثالثی کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔

