سانحہ پمز کی ابتدائی رپورٹ تیار: آتشزدگی اے سی سے نہیں بلکہ نیبولائزر پھٹنے سے ہوئی، رپورٹ میں انکشافات

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے دلخراش آتشزدگی سانحے پر اسپتال انتظامیہ نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی ہے، جس میں حادثے کی اصل وجوہات اور اہم حقائق سامنے آ گئے ہیں۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کی وجہ کوئی اے سی کمپریسر کا دھماکا یا شارٹ سرکٹ نہیں تھا، بلکہ نیونیٹل انٹینسیو کیئر یونٹ (NICU) میں انکیوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والا نیبولائزر اچانک پھٹ گیا، جس کے باعث آکسیجن نے لمحوں میں آگ پکڑ لی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ سے پیدا ہونے والا کثیف دھواں پائپوں کے ذریعے بچوں کے سانس کی نالیوں میں چلا گیا اور معصوم بچوں کی اموات آکسیجن کی فراہمی بند ہونے اور جھلسنے کے باعث ہوئیں۔ ابتدائی طور پر آگ کم تھی جو چند ہی سیکنڈز میں آکسیجن کے باعث انتہائی شدت اختیار کر گئی۔

پمز اسپتال انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق واقعے کے وقت صبح 6 بج کر 38 منٹ پر چنگاری بھڑکی اور 6 بج کر 39 منٹ پر دھماکے سے وارڈ کی فالس سیلنگ نیچے آ گری۔ ڈیوٹی پر موجود 2 ڈاکٹرز اور 2 نرسز نے 35 فائر ایکسٹنگوشرز کی مدد سے آگ بجھانے کی کوشش کی اور ملحقہ 8 کمروں سے 73 مریضوں، 4 بچوں اور 3 ماؤں کو بحفاظت نکال لیا۔

تاہم ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ نرسری کے بیرونی دروازے پر لگے تالے کو کھولنے میں تاخیر ہوئی، کیونکہ ایسی ہنگامی صورتحال کے لیے یہ طے ہی نہیں تھا کہ تالا کھولنے کی ذمہ داری کس عملے کی ہے۔