سانحہ پمز پر وزیراعظم کی شدید برہمی، وفاقی سیکریٹری صحت معطل، اعلیٰ سطح انکوائری کمیٹی قائم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے زچہ و بچہ وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی سے معصوم نومولود بچوں کی ہلاکت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے ہنگامی اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے وزارتِ صحت اور پمز انتظامیہ کے حکام کی شدید سرزنش کی۔ انہوں نے سیکریٹری ہاؤسنگ کیپٹن (ر) محمد محمود کو سیکریٹری صحت کا اضافی چارج سونپنے کی ہدایت کی اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو کراچی سے فوری اسلام آباد پہنچ کر پمز کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر نبیل اعوان بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے بھی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی قائم کی ہے جو 24 گھنٹے کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ دوسری طرف حادثے سے متاثرہ والدین نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آگ لگتے ہی طبی عملہ فرار ہو گیا تھا اور انہوں نے خود شیشے توڑ کر بچوں کو نکالنے کی کوشش کی، جس کے باعث واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔