ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری اور مائنز کی صفائی پر اتفاق

تہران: خلیج اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ میں امن و امان کی بحالی اور محفوظ آمدورفت کے لیے ایران اور عمان نے ایک عارضی مشترکہ بحری راہداری قائم کرنے اور پانی میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے منصوبے پر اتفاق کر لیا ہے۔

عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے اہم ملاقات کی، جس میں آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی، مرحلہ وار تکنیکی فریم ورک، بحری ٹریفک کی نگرانی اور معلومات کے تبادلے سے متعلق تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ کسی بھی نئے انتظامی فریم ورک کے دوران ساحلی ممالک کی خودمختاری کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے گا جبکہ خلیج کے دیگر ساحلی ممالک کو بھی مشترکہ مشاورت کا حصہ بنایا جائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور عمان جیسے ہمسایہ ممالک کی مشاورت سے علاقائی مسائل کا پرامن حل تلاش کرنے کی سفارت کاری جاری ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی آبنائے ہرمز سے تمام بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایران کو خبردار کرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، تاہم ایران اور عمان کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا مقصد اس اہم ترین عالمی بحری راستے میں مستقل و محفوظ ٹریفک کو یقینی بنانا ہے۔