فیفا ورلڈ کپ فائنل کے بعد ہنگامہ آرائی؛ فیفا نے ارجنٹینا کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا

نیویارک: عالمی فٹبال تنظیم (فیفا) نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کا میچ ختم ہونے کے فوراً بعد اسپین اور ارجنٹینا کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے درمیان ہونے والی شدید ہنگامہ آرائی اور ہاتھا پائی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ارجنٹینا کے خلاف باقاعدہ انضباطی و اخلاقیاتی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

فیفا کی جانب سے اس واقعے کی شفاف انکوائری کے لیے ایک خاص ‘ڈسپلنری اینڈ ایتھکس پراسیکیوٹر’ تعیّن کیا گیا ہے، جو میچ کی آخری سیٹی بجنے کے بعد پیش آنے والے تمام حالات و واقعات اور ویڈیو ثبوتوں کا جائزہ لے کر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گا۔

ورلڈ کپ فائنل میں اسپین کے ہاتھوں 0-1 کی شکست کے بعد جب اسپینش کھلاڑیوں نے میدان میں اپنی فتح کا جشن منانا شروع کیا، تو ارجنٹینا کے مڈفیلڈر لیانڈرو پاریدیس (Leandro Paredes) کی اسپین کے کھلاڑیوں ایرک گارشیا اور گاوی کے ساتھ شدید تلخ کلامی ہو گئی جو دیکھتے ہی دیکھتے دھکم پیل اور مار پیٹ میں تبدیل ہو گئی۔

رپورٹس کے مطابق ارجنٹینا کے کھلاڑیوں نہوئل مولینا، تھیاغو المادا اور معاون کوچ روبرٹو ایالا بھی اس کشیدگی میں ملوث رہے۔ اس سے قبل میچ کے 93 ویں منٹ میں ارجنٹینا کے اینزو فرنانڈیز کو دوسرا یلو کارڈ ملنے پر ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیجا جا چکا تھا۔

فیفا کے ضابطہ اخلاق کے تحت اگر ارجنٹینی کھلاڑیوں یا کوچنگ اسٹاف پر کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے یا شائستگی کی خلاف ورزی کا جرم ثابت ہو جاتا ہے، تو ملوث افراد پر متعدد میچوں کی عالمی پابندی عائد کی جا سکتی ہے، جبکہ اسپینش کھلاڑیوں کی جانب سے پاریدیس پر 10 میچوں کی پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن پر بھاری مالی جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ فیفا اس سے قبل سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف کامیابی کے بعد ارجنٹینا کے کھلاڑیوں کی جانب سے ‘فاک لینڈ جزائر’ کے تنازع پر سیاسی بینر لہرانے کے معاملے کی بھی الگ سے انکوائری کر رہا ہے۔