مانچسٹر: انگلینڈ نے اولڈ ٹریفورڈ، مانچسٹر میں کھیلے گئے دوسرے سنسنی خیز ٹی20 بین الاقوامی میچ میں بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر پانچ میچوں کی سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی ہے۔
سیریز کا پہلا میچ بارش کے باعث بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا تھا۔
دوسرے میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارتی ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 190 رنز کا مجموعہ ترتیب دیا، جس کے جواب میں انگلینڈ نے جیکب بیتھل کی دھواں دھار اننگز کی بدولت 191 رنز کا ہدف 19 اوورز میں 6 وکٹیں گنوا کر حاصل کر لیا۔
انگلینڈ کی اننگز کا آغاز انتہائی مایوس کن تھا جب بھارتی پیسر ارشدیپ سنگھ نے پہلے ہی اوور میں اوپنر فل سالٹ اور کپتان جوس بٹلر کو صفر پر پویلین بھیج دیا، تاہم مڈل آرڈر بلے بازوں نے میچ کا پاسہ پلٹ دیا۔
انگلینڈ کے نوجوان بلے باز جیکب بیتھل میچ کے ہیرو ثابت ہوئے جنہوں نے صرف 46 گیندوں پر 5 چوکوں اور 5 بلند و بالا چھکوں کی مدد سے 76 رنز کی ناقابلِ شکست میچ وننگ اننگز کھیلی۔
ابتدائی نقصان کے بعد قائم مقام کپتان ہیری بروک نے 15 گیندوں پر 39 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جس میں ایک ہی اوور میں مسلسل پانچ چوکے شامل تھے، جبکہ ٹام بینٹن نے 39 رنز بنا کر بیتھل کے ساتھ 67 رنز کی قیمتی شراکت داری قائم کی۔
میچ کا فیصلہ کن لمحہ 17واں اوور تھا جب لیگ اسپنر روی بشنوئی کو انگلش بلے بازوں نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اوور میں 29 رنز بٹورے۔
بھارت کی جانب سے ارشدیپ سنگھ 3 وکٹیں لے کر نمایاں رہے جبکہ اکشر پٹیل، ورون چکرورتی اور ہرشت رانا نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
اس سے قبل بھارت کی اننگز میں اوپنر ایشان کشن 49 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے، جبکہ ابھیشیک شرما نے 43 اور کپتان شریاس ایر نے 37 رنز کی اننگز کھیلی۔
انگلینڈ کی جانب سے سیم کرن نے 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ وِل جیکس، لیام ڈاسن اور جوفرا آرچر نے ایک ایک وکٹ لی۔
اس میچ کی خاص بات بھارت کے 15 سالہ نوجوان بلے باز ویبھو سوریا ونشی کا بین الاقوامی کرکٹ میں یادگار ڈیبیو تھا۔
وہ بھارت کی کرکٹ تاریخ کے کم عمر ترین بین الاقوامی کھلاڑی بن گئے ہیں اور انہوں نے لیجنڈ سچن ٹنڈولکر کا 1989 کا دیرینہ ریکارڈ توڑ دیا، جنہوں نے 16 برس کی عمر میں ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔
سوریا ونشی نے اپنے پہلے ہی میچ میں صرف 10 گیندوں پر 2 شاندار چھکوں کی مدد سے 14 رنز کی مختصر مگر برق رفتار اننگز کھیلی اور وہ جوس بٹلر کے ہاتھوں اسٹمپ آؤٹ ہوئے۔

