پاک فضائیہ و سیکیورٹی فورسز کی افغانستان میں بڑی کارروائی؛ پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں 25 دہشت گرد ہلاک

اسلام آباد: ملک میں دہشت گردی کے حالیہ پے در پے واقعات، بالخصوص خیبرپختونخوا، بلوچستان میں معصوم شہریوں اور کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر بزدلانہ حملوں کے بعد پاکستان نے سرحد پار دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر انتہائی ہولناک اور فیصلہ کن وار کیا ہے۔

وفاقِ حکومت کی جانب سے باضابطہ تصدیق کی گئی ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے پاک-افغان سرحد اور افغانستان کے اندر صوبہ پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر منظم فضائی اور زمینی کارروائیاں کرتے ہوئے فتنۃ الخوارج اور بھارتی پراکسی تنظیم جماعت الاحرار کے مجموعی طور پر 29 انتہائی خطرناک کارندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے ایک تفصیلی بیان میں بتایا کہ یہ کارروائیاں ملک دشمن عناصر کے خلاف شروع کیے گئے ‘آپریشن غضب للحق’ کے تسلسل میں 28 اور 29 جون کی درمیانی شب انتہائی درست ہدف گیری کے ساتھ کی گئیں۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات کے مطابق، افغان حدود کے اندر پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں دہشت گردوں کے تین اہم ترین اور فعال تزویراتی اہداف کو نشانہ بنا کر مکمل طور پر مٹی کا ڈھیر بنا دیا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود 25 خارجہ دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

ان تباہ ہونے والے مراکز اور خفیہ ٹھکانوں میں دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان میں بڑی تباہی پھیلانے کے لیے ذخیرہ کیا گیا بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، بارودی مواد اور گولہ بارود بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

اس بڑی کارروائی کے ساتھ ساتھ 28 جون 2026 کو سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاک-افغان سرحد کے قریب ایک اور کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ زمینی آپریشن (IBO) کیا، جہاں مؤثر جوابی کارروائی کے دوران جماعت الاحرار سے منسلک انتہائی مطلوب خارجہ کمانڈر خان فروش عرف زابل کو اس کے 3 اہم دہشت گرد ساتھیوں سمیت جہنم واصل کر دیا گیا جبکہ کارروائی میں متعدد دہشت گرد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔

عطااللہ تارڑ نے اپنے بیان میں واضح الفاظ میں قوم کو یقین دلایا کہ نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی کی جانب سے منظور شدہ ‘عزمِ استحکام وژن’ کے تحت ملک گیر اور سرحد پار انسدادِ دہشت گردی مہم پوری قوت اور شدت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔

انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ پڑوسی ملک اور پورے خطے میں امن، استحکام اور سفارتی مصلحت کو برقرار رکھنے کی مخلصانہ کوشش کی ہے، لیکن اگر ہمارے پیاروں کو نشانہ بنایا گیا تو اپنے شہریوں کے تحفظ اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ ہماری اولین اور حتمی ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے یہ آپریشنز اس وقت تک بلا تعطل جاری رہیں گے جب تک بیرونی فنڈنگ، غیر ملکی پیسے اور بیرونی حمایت سے پاکستان کی پاک دھرتی پر ہونے والی دہشت گردی کے اس ناسور کا مکمل قلع قمع نہیں ہو جاتا۔