واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکہ-ایران ممکنہ تاریخی معاہدے کے تناظر میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ثالثی کردار کا اب عالمی سطح پر بھی کھلے عام اعتراف کیا جا رہا ہے۔
معروف امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز (CBS News) نے اپنی خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکہ اور ایران دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت کا مکمل اور غیر متزلزل اعتماد حاصل ہے۔
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سنگین صورتحال میں خلیجی ممالک اور لبنان جیسے اہم فریق براہِ راست تنازع کا حصہ ہیں، لیکن ان تمام ممالک کی موجودگی کے باوجود صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک ثابت ہوا جو اپنی غیر معمولی سفارتکاری کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے مسودے (Draft) کو حتمی شکل دینے میں کامیاب رہا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران نے جاری سفارتی کوششوں میں بریک تھرو (کلیدی پیش رفت) پیدا کیا۔ فیلڈ مارشل کی تہران سے واپسی کے فوراً بعد یہ مجوزہ مسودہ ایرانی اور امریکی قیادت کو حتمی جائزے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
امریکی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں ایک انتہائی دلچسپ اور اہم ترین دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ’مائی فیورٹ فیلڈ مارشل‘ (میرا پسندیدہ فیلڈ مارشل) قرار دے چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے بیک ڈور مذاکرات کے دوران پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت فریقین کے مابین خلیج اور کشیدگی کو کم کرنے میں اتنی مؤثر ثابت ہوئی۔
سی بی ایس نیوز نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر خصوصی زور دیا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان پایا جانے والا مکمل اتحاد اور غیر معمولی ہم آہنگی (One Page) ہی اس عالمی ثالثی عمل کی کامیابی کا سب سے بنیادی اور اہم ترین عنصر رہی ہے۔
امریکی میڈیا نے یاد دلایا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستان نے دنیا کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لیے پل کا کردار ادا کیا ہو۔ ماضی میں بھی پاکستان، امریکہ اور چین کے درمیان تاریخی سفارتی روابط استوار کرنے اور ان کے تعلقات بحال کروانے میں بنیادی اور تاریخی کردار ادا کر چکا ہے، اور اب امریکہ-ایران جنگ بندی کروا کر پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن کے لیے اپنی ناگزیر اہمیت ثابت کر دی ہے۔

