پی ایس ایل 11: پشاور زلمی کی لاہور قلندرز کو 76 رنز سے عبرتناک شکست، قلندرز 97 رنز پر ڈھیر

کراچی: نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 19ویں میچ میں پشاور زلمی نے لاہور قلندرز کو 76 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر ایونٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔

لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، تاہم پشاور زلمی کے بیٹرز نے عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 173 رنز کا مجموعہ ترتیب دیا۔

زلمی کی جانب سے کوشال مینڈس 74 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر نمایاں رہے جبکہ کپتان بابر اعظم نے 43 رنز بنا کر ٹیم کو مستحکم آغاز فراہم کیا۔ مائیکل بریسویل نے 21 اور محمد حارث نے 18 رنز کا اضافہ کیا۔

لاہور قلندرز کی جانب سے کپتان شاہین آفریدی نے 3 اور مستفیض الرحمان نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ عبید شاہ اور اسامہ میر کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی۔

174 رنز کے ہدف کے تعاقب میں لاہور قلندرز کی بیٹنگ لائن ایک بار پھر مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی اور پوری ٹیم 17 اوورز میں محض 97 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ یہ کراچی کے میدان پر لاہور قلندرز کی مسلسل دوسری شکست ہے جہاں ان کی پوری ٹیم 100 رنز کا ہندسہ بھی عبور نہ کر سکی۔

قلندرز کی جانب سے عبداللہ شفیق اور فخر زمان 21، 21 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ دُینتھ ویلالگے نے 20 رنز بنائے۔ ٹیم کے دیگر اسٹار بیٹرز سکندر رضا (14) اور آصف علی (0) خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔

پشاور زلمی کے باؤلرز نے انتہائی نپی تلی باؤلنگ کا مظاہرہ کیا، بالخصوص مائیکل بریسویل اور سفیان مقیم نے 3، 3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا کر قلندرز کی کمر توڑ دی۔ ناہید رانا نے 2 جبکہ عامر جمال اور شریف الاسلام نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

اس فتح کے ساتھ پشاور زلمی نے ٹورنامنٹ میں اپنی برتری ثابت کر دی ہے، جبکہ لاہور قلندرز کے لیے یہ سیزن اب تک ڈراؤنا خواب ثابت ہو رہا ہے۔ کراچی کی پچ پر قلندرز کے بلے بازوں کی مسلسل ناکامی نے ٹیم مینجمنٹ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

میچ کے دوران بابر اعظم نے پی ایس ایل میں ایک اور سنگِ میل بھی عبور کیا، جس نے ان کی اننگز کو مزید یادگار بنا دیا۔

ماہرین کے مطابق، زلمی کی اس ہمہ جہت کارکردگی نے انہیں ٹائٹل کی دوڑ میں فیورٹ بنا دیا ہے، جبکہ قلندرز کو ایونٹ میں واپسی کے لیے اپنی بیٹنگ لائن میں بڑی تبدیلیاں اور بہتر حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔