لاہور: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز ملتان کو ولی ٹیک نے 2 ارب 45 کروڑ روپے میں 10 سال کے لیے خرید لیا، جس کے بعد یہ لیگ کی اب تک کی مہنگی ترین فرنچائز بن گئی۔
ملتان ٹیم کی نیلامی ایکسپو سینٹر لاہور میں منعقد ہوئی جس میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی سمیت کرکٹ و کاروباری حلقوں کی نمایاں شخصیات شریک ہوئیں۔
تقریب میں سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی، لیجنڈ بلے باز ظہیر عباس اور لاہور قلندرز کے مالکان ثمین رانا اور عاطف رانا کی موجودگی نے ایونٹ کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔
پی سی بی کے مطابق نیلامی کے لیے مقررہ بیس پرائس 182 کروڑ روپے رکھی گئی تھی اور مقررہ وقت کے اندر مجموعی طور پر 6 تجاویز موصول ہوئیں، جن کی تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد 5 بڈرز کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا اور انہوں نے بولی کے عمل میں حصہ لیا۔
مسابقتی ماحول میں بولی کا سلسلہ جاری رہا جس کے بعد ولی ٹیک نے سب سے زیادہ 2 ارب 45 کروڑ روپے کی پیشکش دے کر فرنچائز کے حقوق حاصل کر لیے۔
یہ نیلامی اس وقت عمل میں آئی جب ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین نے 10 سالہ ملکیتی معاہدے کی تجدید سے انکار کیا، جس کے بعد پی سی بی نے نئے سرمایہ کار کی تلاش کے لیے فرنچائز کو نیلامی کے لیے پیش کیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ شفاف عمل کے ذریعے مکمل کیے گئے اس مرحلے سے لیگ کے مالی اور تجارتی ڈھانچے کو مزید مضبوطی ملے گی۔
پی ایس ایل کی ٹیم ملتان کو ولی ٹیک نے نام بدل کر راولپنڈی رکھ دیا۔ اس موقع پرچیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ ولی ٹیک کو ملتان سلطانز کی ٹیم خریدنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
واضح رہے کہ ملتان سلطانز پی ایس ایل کی نمایاں اور مقبول فرنچائزز میں شمار ہوتی ہے جس کے باعث اس کے مالکانہ حقوق کے حصول کے لیے بڈرز خاصا جوش دکھا رہے ہیں۔

