آئی ایم ایف کی پاکستان پر نئی سخت شرائط، سرکاری افسران کے اثاثے پبلک کرنے کا فیصلہ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF) پروگرام کے تحت پاکستان پر نئی سخت شرائط عائد کر دی ہیں، جس کے بعد مجموعی شرائط کی تعداد 64 تک پہنچ گئی ہے۔

آئی ایم ایف کی اسٹاف رپورٹ کے مطابق، ان شرائط میں سول بیوروکریسی کے اثاثوں کا لازمی ڈیکلریشن، شوگر اور گندم کے شعبوں کی ڈیریگولیشن، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے قومی خطرات سے متعلق رپورٹ کی اشاعت اور ترسیلات زر کے نظام میں مراعات پر جامع جائزہ شامل ہے۔

حکومت نے بدعنوانی کے خلاف ادارہ جاتی طاقت بڑھانے کے لیے اثاثہ جاتی ڈیکلریشن کے نظام میں ترامیم پر کام شروع کر دیا ہے، جس کے تحت دسمبر 2026 کے آخر تک اعلیٰ وفاقی سول سرونٹس کے اثاثے سرکاری ویب سائٹ پر شائع کیے جائیں گے، بعد ازاں اس کا دائرہ اعلیٰ صوبائی افسران تک بڑھایا جائے گا اور بینکوں کو ان معلومات تک مکمل رسائی دی جائے گی۔

آئی ایم ایف نے ہدایت کی ہے کہ نیب ان 10 سرکاری اداروں کے لیے ایکشن پلان مرتب کرے جہاں بدعنوانی کے خطرات سب سے زیادہ پائے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستانی حکام نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے قومی رسک اسیسمنٹ کو اپڈیٹ کر کے مارچ 2026 کے آخر تک شائع کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ رئیل اسٹیٹ ایجنٹس، زیورات اور قیمتی دھاتوں کے تاجروں کی رسک بیسڈ نگرانی کو بھی ترجیح دی جائے گی جبکہ ایس ای سی پی کے تحت بینیفیشل اونرشپ رجسٹر کو جنوری 2026 تک ڈیجیٹل طور پر قابل رسائی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کرنے سے متعلق قانون سازی ہو چکی ہے اور یہ کوئی اضافی شرط نہیں بلکہ عملی اصلاحاتی قدم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ بجٹ میں ایف بی آر محض وصولی ادارہ نہیں بلکہ پالیسی ساز کے طور پر کام کرے گا اور نجی شعبہ معیشت کی قیادت کرے گا۔