پی ایس ایل آئی پی ایل سے زیادہ محفوظ لیگ قرار، مقبولیت میں اضافہ، غیر ملکی کھلاڑی آئی پی ایل سے دور ہونے لگے

غیر ملکی کرکٹرز کی جانب سے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے بجائے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کو ترجیح دینے کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث پی ایس ایل کی عالمی سطح پر مانگ مزید بڑھ گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انگلینڈ کے کرکٹر ڈیوڈ ولے نے آئی پی ایل کے مقابلے میں پی ایس ایل کی سکیورٹی اور کھلاڑیوں کے لیے کھیلنے کی یقین دہانی کو بہتر قرار دیا۔

ڈیوڈ ولے کا کہنا تھا کہ آئی پی ایل کی نیلامی کا عمل غیر یقینی ہوتا ہے، جہاں نہ صرف خریدے جانے بلکہ میچ کھیلنے کی بھی ضمانت نہیں ملتی، جبکہ پی ایس ایل میں کھلاڑیوں کو زیادہ سکیورٹی اور واضح کردار کے ساتھ میدان میں اترنے کا موقع ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر کھلاڑی کی اپنی صورتحال ہوتی ہے، تاہم کئی کرکٹرز کے لیے یہ زیادہ بہتر ہوتا ہے کہ وہ پی ایس ایل میں باقاعدہ میچ کھیلیں بجائے اس کے کہ آئی پی ایل میں 10 یا 11 ہفتے بینچ پر بیٹھے رہیں۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقی کرکٹر فاف ڈو پلیسی اور انگلینڈ کے آل راؤنڈر معین علی آئی پی ایل چھوڑ کر پی ایس ایل کھیلنے کا اعلان کرچکے ہیں، جبکہ آسٹریلیا کے اسٹار آل راؤنڈر گلین میکسویل نے بھی رواں سال آئی پی ایل نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد ان کی پی ایس ایل میں شمولیت سے متعلق قیاس آرائیاں زور پکڑ چکی ہیں۔